اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے دارالعلوم دیوبند پر لگایا تشدد پھیلانے کا مذموم الزام، سپریم کورٹ سے ادارے کو بند کرا نے کا مطالبہ۔
نئی دہلی: اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے سپریم کورٹ میں ایک خط پٹیشن دائر کر کے دارالعلوم دیوبند کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس عرضی میں ملک بھر کی تمام مساجد، درگاہوں، عیدگاہوں پر دفعہ 144 لگا کر سخت نگرانی رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، ساتھ ہی چیف جسٹس این وی رمنا کو ایک خط لکھ کر دارالعلوم دیوبند، جو ایک اسلامی تعلیمی ادارہ ہے اُسےبند کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اکھل بھارتیہ مہاسبھا کا کہنا ہے کہ 10 جون کو اتر پردیش، دہلی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، جھارکھنڈ اور بہار میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند فسادات اور دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ مکتوب میں دارالعلوم دیوبند پر فسادات، سازش اور دہشت پھیلانے کی تربیت کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ خط پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ’تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے اور تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف سینٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی سے تفتیشی کارروائی کی جائے۔  ہندو مہاسبھا کا کہنا ہے کہ ’’گیانواپی مسجد میں شیولنگ پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے مولوی الیاس کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ فرفرہ شریف کے سربراہ عباس صدیقی کی گرفتاری کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔