مہاراشٹر میں سیاسی بھونچال، مہاوکاس اگھاڑی حکومت خطرہ میں، ایک ناتھ شندے نے ادھو حکومت کی حمایت جاری رکھنے کےلیے بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن کی شرط رکھی، اگھاڑی حکومت میں شامل تینوں پارٹیاں اپنے اپنے ممبران اسمبلی کو متحد رکھنے کی کوشش میں مصروف۔
ممبئی: (نمائندہ خصوصی) شیوسینا کے سینئر لیڈر ایکناتھ شندے کی بغاوت نے ادھو ٹھاکرے کی حکومت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے اس کی وجہ سے مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال آگیا ہے۔ ایک ناتھ شندھ تین وزرا سمیت ۲۶؍ ممبران اسمبلی کے ساتھ سورت کے لی میریڈین ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اس کی وجہ سے ادھو ٹھاکرے کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت مشکل میں آگئی ہے اور ریاست میں اقتدار سے بے دخل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔مہاراشٹر میں سیاسی بھونچال کے درمیان بدھ کو ادھو ٹھاکرے نے دوپہر ایک بجے کابینہ کی میٹنگ طلب کی ہے۔ دیر شام ادھر ادھو ٹھاکرے کے گھر پر مہاوکاس اگھاڑی کی تال میل کمیٹی میٹنگ ہوئی جس میں این سی پی کے وزیر چھگن بھجبل، وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل، سنجے رائوت، جینت پاٹل، اور اجیت پوار شامل ہوئے تھے ۔میٹنگ کے بعد شیوسینا کے ممبران اسمبلی کو ورلی کے ایک ہوٹل میں شفٹ کردیاگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس دوران شیوسینا ممبران اسمبلی سے کہاکہ شندے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کی بات کررہے ہیں، انہو ںنے کہا کہ جب آپ بی جے پی کے ساتھ تھے تو کیا آپ کو کم پریشانی ہوئی؟ تو اب بی جے پی کے ساتھ کیسے جائیں ؟ انہو ںنے کہاکہ ہم یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایکناتھ شندے کیا چاہتے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری بات سنیں گے، سبھی ممبران جلد ہی ساتھ ہوں گے، راشٹروادی کانگریس، کانگریس ہمارے ساتھ ہیں۔ ادھر ریاستی کانگریس کے ممبران اسمبلی کی بھی میٹنگ ختم ہوگئی ہے، کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ۴۴ میں سے ۴۲ ایم ایل اے اس میٹنگ میں شامل ہوئے۔ دلیپ ولسے پاٹل نے کہاکہ ہم اپنے ممبران اسمبلی کے اتحاد کو دیکھ کر خوش ہیں، انہو ںنے کہاکہ مہاوکاس اگھاڑی کو اس بحران سے نکالنے کی ہم پوری کوشش کریں گے، انہو ںنے کہاکہ بی جے پی کا آپریشن کمل ٹھیک نہیں ہے ہمارے ممبران اسمبلی کے ذہن میں کوئی خدشہ نہیں ہے کہ یہ سرکار چلے گی یا نہیں۔ قبل ازیں شیوسینا نے سخت ایکشن لیتے ہوئے شندے کو لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے ان کی جگہ اجے چودھری کو کمان دی گئی ہے۔ وہیں ایکناتھ شندے نے شیوسینا کے ایکشن پر طنز کسا ہے انہوں نے ٹوئٹ کرکے لکھا کہ ’ہم بالا صاحب ٹھاکرے کے کٹر شیوشینک ہیں، بالا صاحب نے ہمیں ہندو تو کا درس دیا تھا ہم نے کبھی اس سے دھوکہ نہیں کیا او رنہ ہی کبھی ہندو تو سے غداری کریں گے ہم بالا صاحب ٹھاکرے کی سکھائی ہوئی باتوں کے ساتھ ہیں‘۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سورت کے ہوٹل میں ایکناتھ شندے کو منانے کےلیے ملند ناوریکر نے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی ان سے بات چیت بھی کرائی ہے۔شندے نے ملند ناوریکر سے کہاکہ وہ ہندو تو کے ساتھ ہیں اور شیوسینا میں واپس نہیں آئیں گے، میں ہندو تو کے ساتھ ہوں اور شیوسینا نے ہندو تو چھوڑ دیا ہے میں شیوسینا میں نہیں لوٹوںگا۔  بتایاجارہا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی اہلیہ رشمی ٹھاکرے سے بھی شندے  سے فون پر بات چیت کرائی گئی ہے لیکن شندے نے بات ماننے سے انکار کردیا ہے۔ شندے نے وزیراعلیٰ سے دوران گفتگو کہاکہ وہ شیوسینا چھوڑنے کا خیال نہیں رکھتے لیکن پارٹی کے ممبران اسمبلی این سی پی اور کانگریس کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے ہیں اس لیے پارٹی کو بی جے پی ساتھ گٹھ بندھن کرلیناچاہئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکناتھ شندے نے وزیراعلیٰ ٹھاکرے سے فون پر ۱۵ سے ۲۰ منٹ گفتگو کی اس دوران شندے نے وزیراعلیٰ کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اگر وہ بی جے پی سے اتحاد کرلیتے ہیں تو شیوسینا نہیں ٹوٹے گی ۔ شندے نے اس دوران ۳۵ شیوسینا ممبران اسمبلی اور دو آزاد ممبر اسمبلی کی حمایت کادعویٰ بھی کیا ہے۔ فون پر بات چیت کے دوران وزیراعلیٰ نے شندے سے ممبئی آکر گفتگو کرنے کو کہا ہے۔ آج تک کی خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ نے شندے سے کہاکہ بی جے پی شیوسین اور اس کے کارکنان کو پریشان کررہی ہے ان کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیسے ہوسکتا ہے؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس جو صبح دہلی گئے تھے اور وہاں پارٹی ہائی کمان سے ملاقات کرنے کے بعد ممبئی لوٹ آئے ہیں۔ بی جے پی صدر چندرکانت پاٹل نے کہاکہ وہ ابھی انتظار کررہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ فڈنویس جلد ہی سورت کے لیے روانہ ہوسکتے ہیں۔
ایک ناتھ شندے کی بغاوت کے بعد شیوسینا کے راجیہ سبھا رکن سنجے رائوت نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں انہوں نے کہاکہ بی جے پی مہاراشٹر میں آپریشن لوٹس شروع کردیا ہے۔ پارٹی نے ہمارے لیڈروں کا اغوا کیا ہے او رانہیں پولس کے پہرے میں رکھا ہے۔ ریاست میں جو حالات بنے ہوئے ہیں اس کےلیے بی جے پی سازش رچی ہے، انہو ںنے کہاکہ جن ممبران اسمبلی نے باہر نکلنے کی کوشش کی ان پر حملہ کیاگیا ہے۔ رائوت نے کہاکہ ریاست میں ابھی جو بھی حالات  آئے ہوئے ہیں شیوسینا اس سے باہر آئے گی، کوئی کچھ بھی کہتا رہے، لیکن ہمارا اتحاد نہیں ٹوٹے گا۔ انہوں نے کہاکہ شندے کے دل میں کوئی غلط فہمی ہے تو انہیں دور کیاجاسکتا ہے، اس لیے ہم نے ان سے ممبئی آنے اور ہمارے ساتھ بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔ رائوت نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا کے ممبران اسمبلی کو اغوا کرکے وہاں رکھا گیا ہے بی جے پی نے ہمیں دس بار بے عزت کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکام رہی۔ انہو ںنے کہاکہ ممبئی میں قبضہ کرنے کےلیے شیوسینا کو کمزور کرنے کی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی، مہاراشٹر میں مدھیہ پردیش اور راجستھان فارمولہ نہیں چلے گا۔ رائوت نے کاکہ شندے سے بات ہوئی ہے وہ ہمارے پرانے ساتھی ہیں، ہمارا ان کے ساتھ اچھا رشتہ رہا ہے، ہم نے بی جے پی کا ساتھ کیوں چھوڑا وہ سبھی کو پتہ ہے جس میں ایک ناتھ شندے بھی شامل رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے سینئر رہنما اور این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے منگل کی دوپہر میں کہا کہ مہاراشٹرا میں ڈھائی سال سے مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت ٹھیک چل رہی ہے۔ بی جے پی نے انہیں تین بار گرانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس بار بھی ان کی ہر چال ناکام ہوگی۔ ادھو حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔شرد پوار نے کہا کہ یہ شیو سینا کا اندرونی معاملہ ہے۔ ایکناتھ شندے نے ہمیں کبھی نہیں بتایا کہ وہ وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے اس کا کوئی حل نکالیں گے۔ وہ بہتر قیادت دے رہے ہیں۔ وہ ایکناتھ شندے کو کچھ نئی ذمہ داری دیں گے۔ ہم ادھو ٹھاکرے کے ہر فیصلے کی حمایت کریں گے۔ اب کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔شرد پوار نے اس موقع پر کہا کہ ہر طرح سے ہراساں کیے جانے کے باوجود مہا وکاس اگھاڑی نے حکومت بنائی۔ ہماری حکومت کو بننے سے روکنے کے لیے کون کون سے مسائل پیدا نہیں کیے گئے؟ پوار نے کہا کہ بی جے پی ہر وقت مکروفریب کی چالیں چلتی رہتی ہے۔ مہاراشٹر کے لوگ اسے برداشت نہیں کریں گے۔شرد پوار نے کئی باتوں میں اشارہ دیا ہے کہ ایکناتھ شندے کو بھی نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نئی ذمہ داری کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد شرد پوار ممبئی پہنچ چکے ہیں۔جہاں دیر شب وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے میٹنگ بھی ہوئی۔ جاری سیاسی بحران کے دوران ریاستی کانگریس نے بیان جاری کیا ہے۔ کہا ہے کہ کانگریس کے سبھی ممبران اسمبلی ریاستی صدر نانا پٹولے اور لیجسلیچر پارٹی کےلیڈر بالا صاحب تھوراٹ کے رابطے میں ہیں اور ممبران اسمبلی کے نہیں پہنچنے کی جو خبر ہے وہ پوری طرح سے افواہ اور بے بنیاد ہے۔ بالا صاحب تھوراٹ کے کانگریس پارٹی دل کے لیڈر سے استعفیٰ کی خبر بھی غلط ہے کیوں کہ وہ اپنے مکان سے ہی پورے حالا ت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نانا پٹولے نے بی جے پی پر الزام لگاتےکہا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کو بھگوا سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔انہوں نے مہاراشٹر میں سیاسی بحران پر ناگپور میں نامہ نگاروں سے کہا بی جے پی مرکز میں اپنے موجودہ اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پیسہ اور طاقت غالب ہے۔ بی جے پی غلط راستے پر چل رہی ہے، بالآخر جیت سچائی کی ہوگی۔ موجودہ دور بھی گزر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں سیاسی بحران کے درمیان کانگریس کی ریاستی اکائی کے قائدین آج اس پر مہاراشٹر میں ملاقات کریں گے اور حالیہ صورتحال پر اپنا موقف طے کریں گے۔پٹولے نے دعویٰ کیا کہ ۲۸۸رکنی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی کے لیے اکثریت کا ہندسہ عبور کرنا محض ایک خواب ہے۔ وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔مہاراشٹر میں تازہ ترین سیاسی پیش رفت کے پیش نظر کانگریس نے اپنے سینئر لیڈر کمل ناتھ کو ریاست کے لیے مبصر مقرر کیا ہے۔پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے جاری بیان کے مطابق کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کو مہاراشٹرا کے لیے مبصر مقرر کیا ہے۔ مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے مہاراشٹر میں جاری سیاسی بھونچال کے دوران کہاکہ ادھو سرکار کے جانے کا وقت ہوگیا ہے، شیوسینا کے لیڈر ایک ناتھ شندتھ ہیں، ان کے ساتھ ۳۵ سے ۳۶ ایم ایل اے ہیں، شیوسینا کے لوگوں کاکہنا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں لیکن ایسا نہیں ہوا اسلیے شیوسینا کے بہت سارے ایم ایل اے نے ان کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا ہے بہت جلد دیویندر فڈنویس کی ریاست میں حکومت بننے والی ہے۔ بتادیں کہ ۵۵ میں سے صرف ۲۲ ممبران اسمبلی ہی آج شام ادھو ٹھاکرے کی میٹنگ میں موجود رہے۔ ایکناتھ شندے کو پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹانے والے لیٹر پر ۲۲ کے ہی دستخط ہیں یعنی ۳۳ ممبران اسمبلی شیوسینا کے ساتھ نہیں ہیں اس وقت۔  دعویٰ کیاجارہا ہے کہ سورت میں شندے کے ساتھ ۱۵ شیوسینا ایم ایل اے، ایک این سی پی اور ۱۴ آزاد ممبران اسمبلی ہیں۔ پوری ٹولی میں ۳۰ ممبران اسمبلی اور تین وزراء ہیں۔کہاجارہا ہے کہ اگر باغی لیڈر ایک ناتھ شندے کے ساتھ ۳۷ ممبران اسمبلی ہوتے ہیں تووہ ایک نئی پارٹی بناسکتے ہیں وہیں اگر وہ بی جے پی کی حمایت کرتے ہیں تو اسمبلی میں این ڈی اے کے ۱۵۰ ممبران ہو جائیں گے اگر این ڈی اے اکثریت کی تعداد پاجاتی ہے تو اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لاکر ادھو سرکار کی حکومت گرائی جاسکتی ہے۔ وہیں اگر مہاراشٹر میں کچھ وقت کےلیے یہی صورت حال برقرار رہی تو گورنر اس کی اطلاع مرکز کو دے سکتے ہیں اس کے بعدمرکز صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کرسکتے ہیں۔