سہارنپور میں احتجاج کرنے والے مزید 28 نوجوانوں کو ملی ضمانت،اب تک 60 کو مل چکی ہے رہائی، 10جون کو گستاخ رسول نوپور شرما کے خلاف ہوا تھا احتجاج۔
سہارنپور: (سمیر چودھری)
ضلع سہارنپور میں گذشتہ10جون کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کو لیکر احتجاج کے دوران گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو بالآخر عدالت نے یکے بعد دیگرے زیادہ تر کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا پروانہ جاری کردیا ہے ۔احتجاج کے دوران پولیس نے شہر و مرزاپور علاقے کے رائے پور سے بہت سے مسلم نوجوانوں کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرتے ہوئے ان پر کیس درج کیا تھا۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلم نوجوان انصاف اور رہائی کے منتظر تھے جس کا فیصلہ بالآخر ہوگیا۔ عدالت نے اس سے قبل دیگر نوجوانوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا فیصلہ سنایا تھا اور اب عدالت نے بقیہ مسلم نوجوانوں کے لئے رہائی کا پروانہ صادر کردیا۔عدالتی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہو ئے متحدہ مجلس عمل کی جانب سے کہا گیا کہ ملزمین کی گرفتاری کے بعد سے ہی یہ کوشش کی جارہی تھی کہ جلداز جلد ملزمین کو ضمانت پر رہاکرایا جائے جس کے لئے عدالت سے رجوع کیا گیا جہاں پر مسلم وکلاء کے پینل کی جد وجہد کا نتیجہ ہے کہ الحمدللہ فیصلہ ملزمین کے حق میں آیا۔قاضی ندیم اختر شہر قاضی سہارنپور، مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور، شیر شاہ اعظم،عارف خان نے ماخوذ تمام ملزمین کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محض ضمانت پر رہائی ہمارا مقصد نہیں، بلکہ اس کی کوشش ہے کہ جن بے گناہ لوگوں کو پھنسایا گیا ہے ان کو قانونی طور پر مکمل انصاف دلایا جائے۔دوران مقدمات آل انڈیا ایڈووکیٹ مائنارٹیز ایسوسی ایشن کے محمد علی ایڈوکیٹ، بابر وسیم ایڈوکیٹ،،اشرف خاں ایڈوکیٹ، بشمبر سنگھ پنڈیر، رشی کمار گپتا، انوار صدیقی، فیصل اقبال ایڈوکیٹ، محمد سلیم خاں ایڈوکیٹ، محمدشعیب ایڈوکیٹ، ، یاسر، جمیل صابری، عدنان شاھد ایڈوکیٹ، آصف انصاری ایڈوکیٹ، شاہ عالم ایڈوکیٹ، یوسف جمال ایڈوکیٹ، شاہ نواز ایڈوکیٹ،مہیش گپتا، ہر پال سنگھ جیون اور فرمان ایڈوکیٹ وغیرہ کی خدمات حاصل کی گئی جنہوں نے بڑی محنت اور لگن سے نوجوانوں کو ضمانت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔