دیوبند میں زمینی کو لیکر دو فریق میں تصادم، پتھراؤ اور فائرنگ سے موقع پر مچی افراتفری، پولیس نے حالات کو سنبھالا۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
محلہ خانقاہ میں زمین پر قبضہ کرنے کو لیکر آج دو فریقین کے درمیان فائرنگ اور پتھراو ہوگیا حالانکہ اس واقعہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا لیکن فائرنگ کی آواز سے آس پاس رہنے والے باشندوں میں افرا تفری مچ گئی ۔اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے حالات کو سنبھالا۔ اس معاملہ میں ایک فریق کی جانب سے دیوبند کوتوالی میں تحریر دی گئی ہے ۔ پولیس نے تحریر کی بنیاد پر تفتیش شروع کردی ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق آج دوپہر محلہ خانقاہ میں واقع دیوبند گنگوہ بائی پاس کے نزدیک زمین پر قبضہ کرنے کو لیکر دو فریقین کے درمیان پتھراو ¿ کے بعد فائرنگ ہوگئی جس سے علاقہ میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا ۔اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج پربھاکر کینتورا پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے جس کے بعد ایک فریق کے افراد موقع سے فرار ہوگئے جبکہ وہاں موجود دوسرے فریق کی خواتین نے پولیس کو اس واقعہ کے سلسلہ میں تفصیلی معلومات دی ۔اس معاملہ میں محلہ شاہ بخاری کے رہنے والے حاجی ثناءاللہ کے لڑکے محمد وسیم نے پولیس کو تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی والدہ فردوس کھیوٹ نمبر 1160/1خسرہ نمبر3431/2زمین ہے ۔مذکورہ زمین کی اونچی اونچی چار دیواری بھی کرائی گئی ہے ۔الزام ہے کہ دیوبند کے گاوں جھبیرن، اندون کوٹلہ دیوبند، مظفرنگر، غازی آباد اور ہریدوار (اترا کھنڈ) کے تقریبا بارہ لوگ مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اسی سبب یہ لوگ رنجش رکھتے ہیں۔
محمد وصی کا الزام ہے کہ بدھ کے روز مذکورہ لوگ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قبضہ کرنے پہنچے تو اس کی والدہ فردوس نے اس کی مخالفت کی تو مذکورہ لوگوں کے ذریعہ مار پیٹ کرتے ہوئے پتھراو وفائرنگ کی گئی ۔شور مچانے پر ملزمان جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے فرار ہوگئے ۔انسپکٹر پربھاکر کینتوار کا کہنا ہے کہ پتھراو اور فائرنگ سمیت پورے معاملہ کی سنجیدگی سے جانچ کی جارہی ہے ۔زمین پر ثنا ءاللہ کا قبضہ ہے ۔تحریر کی بنیاد پر رپورٹ درج کی جارہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قریب 6بیگہ زمین کو لیکر تناز ع ہے۔