راہل گاندھی کی کردار کشی کے الزام میں زی نیوزکا اینکر گرفتار، نوئیڈا اور چھتیس گڑھ پولیس روہت کو تحویل میں لینے کے لیے آپس میں بھڑگئیں، آخر میں نوئیڈا پولس کو کامیابی ملی۔
غازی آباد۔:  زی نیوز کے اینکر روہت رنجن جن پر راہل گاندھی کے بارے میں فرضی خبریں پھیلانے کا الزام ہے، کو نوئیڈا پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس سے پہلے، نوئیڈا اور چھتیس گڑھ پولیس روہت کو تحویل میں لینے کے لیے آپس میں بھڑگئیں۔ دونوں کے درمیان جھگڑے کا ماحول تھا۔تاہم نوئیڈا پولیس کو اس میں کامیابی ملی۔ بتا دیں کہ چھتیس گڑھ پولیس عدالتی وارنٹ پر روہت کو گرفتار کرنے آئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی خود کو مشکل میں دیکھ کر اینکر نے یوگی حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مدد کی اپیل کی تھی۔روہت پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے خلاف فرضی خبریں پھیلانے کا الزام ہے۔ اس کے خلاف چھتیس گڑھ میں بھی مقدمہ درج ہے۔روہت رنجن نے منگل کی صبح 6.16 بجے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ چھتیس گڑھ پولیس مقامی پولیس کو بتائے بغیر مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر کے باہر کھڑی ہے۔کیا یہ قانونی طور پر درست ہے؟ روہت نے اس ٹویٹ کو یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، ایس ایس پی غازی آباد اور اے ڈی جی زون لکھنؤ کو بھی ٹیگ کیا ہے۔ دوسری جانب جب یوپی کی غازی آباد پولیس کو اطلاع ملی کہ چھتیس گڑھ پولیس اینکر روہت رنجن کو گرفتار کرنے اندرا پورم پہنچ گئی ہے تو انہوں نے روہت رنجن کے ٹویٹ کا جواب دیا ہے۔غازی آباد پولیس نے ٹویٹ کر کے لکھا کہ معاملہ مقامی پولیس کے نوٹس میں ہے، اندرا پورم پولیس اسٹیشن موقع پر ہے، قواعد کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔دوسری جانب چھتیس گڑھ پولیس نے جواب دیا کہ اطلاع دینے کا ایسا کوئی اصول نہیں ہے۔ تاہم، اب انہیں اطلاع دی گئی ہے۔ پولیس ٹیم نے آپ کو عدالت کے وارنٹ گرفتاری دکھائے ہیں۔ آپ کو واقعی تعاون کرنا چاہیے، تفتیش میں شامل ہونا چاہیے اور عدالت میں اپنا دفاع کرنا چاہیے۔بتادیں کہ کانگریس پارٹی نے زی نیوز کے اینکر روہت رنجن کے خلاف راہل گاندھی کا فرضی ویڈیو چلانے کی شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم، چینل نے مواد واپس لے لیا اور عوامی معافی جاری کی۔ پارٹی نے سابق وزیر اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن راٹھور کی ٹوئٹر ٹائم لائن سے چھیڑ چھاڑ کی ویڈیو کو نہ ہٹانے پر بھی تنقید کی۔