سپریم کورٹ میں ہوگی بلقیس بانو کیس کی سماعت، 11 مجرموں کی سزا میں ملی رعایت کو چیلنج۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کیس میں دائر درخواست کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔ بلقیس بانو کی جانب سے دائر درخواست میں 11 افراد کی سزا سے استثنیٰ کو چیلنج کیا گیا ہے۔
منگل کو وکیل اپرنا بھٹ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو اس معاملے پر غور کرنے کا اختیار دیا ہے۔ جبکہ سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ وہ سزا میں دی گئی چھوٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حاملہ خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی اور اس کے خاندان کے 14 افراد کو قتل کیا گیا۔ اس دلیل پر چیف جسٹس این وی رمن نے کہا کہ عدالت اس معاملے کو دیکھے گی۔ اس معاملے میں سماجی کارکن سبھاشنی علی، ریوتی لال، روپ ریکھا ورما کی جانب سے عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ ترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا نے بھی درخواست داخل کی ہے۔
مجرموں کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔
اس پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ مجرموں کو رہا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ معاملہ اجتماعی عصمت دری اور قتل سے متعلق ہے۔ گجرات میں بی جے پی حکومت نے پیر کے روز ان تمام 11 افراد کو رہا کیا جو حاملہ بلقیس بانو کی عصمت دری اور 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اس کے خاندان کے سات افراد کو قتل کرنے کے مجرم قرار دیے گئے تھے۔ بی جے پی حکومت کے اس فیصلے کی تنقید کی جارہی ہے۔
بلقیس کی حکومت کے فیصلے پر تنقید۔
حکومت کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے بلقیس نے کہا کہ "اتنا بڑا اور غیر منصفانہ فیصلہ" لینے سے پہلے کسی نے ان کی حفاظت یا خیریت کے بارے میں نہیں پوچھا۔ انہوں نے گجرات حکومت سے کہا کہ وہ اسے تبدیل کرے اور انہیں 'بغیر خوف کے امن سے رہنے' کا حق دے۔