بلقیس بانو کیس کے مجرموں رہائی کی مخالفت میں 130 سے زائد سابق سیول سرونٹس کا چیف جسٹس کو خط، فیصلہ کی اصلاح کی درخواست۔
نئی دہلی: بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی کے خلاف مختلف گوشوں سے تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے تازہ طور پر گجرات حکومت کے فیصلے کے خلاف 130 سے زائد سابق سیول سرونٹس نے ہفتہ کو چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط لکھتے ہوۓ بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کیس کے 11 خاطیوں کی رہائی کی مخالفت کی اور ان سے درخواست کی کہ اس بدترین فیصلے کی اصلاح کی جاۓ۔ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے کہا کہ وہ حکومت گجرات کی جانب سے جاری رہائی کے حکم کو منسوخ کریں اور 11 خاطیوں کو تاحیات جیل میں رکھا جائے۔ انہوں نے بلقیس کے مجرمین کی رہائی کو بدترین غلطی قرار دیا۔

دہلی کے سابق لیفٹینٹ گورنر نجیب جنگ، سابق معتمد کابینہ چندرشیکھر، شیو شنکر مینن، سجاتا سنگھ، جی کے پلئی اس خط پر دستخط کرنے والی 134 شخصیتوں میں شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ ہمیں سپریم کورٹ اس کے حکم پر حیرت ہوئی کہ اس کیس کا موجودہ پالیسی کے تحت نہیں بلکہ 1992ء کی گجرات کی پالیسی کے تحت جائزہ لیا جاۓ۔ مروجہ قانون سے اس انحراف سے حکومت کی موجودہ پالیسی پر عدم عمل آوری اور رہائی کے سنسنی خیز اثرات کے پیش نظر ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ حکومت گجرات کی جانب سے رہائی کے احکامات منسوخ کئے جائیں اور 11 خاطیوں کو پھر سے جیل بھیج دیا جائے۔