بلقیس بانو ریپ معاملے میں سپریم کورٹ کا امتحان : حسام صدیقی۔

لیڈ اسٹوری
جدید مرکز، لکھنؤ
مؤرخہ ۲۸ اگست تا ۳ ستمبر، ۲۰۲۲
نئ دہلی: تین مارچ ۲۰۰۲ کو گجرات کے داہود ضلع کے لمکھیڑا تعلقہ میں بلقیس بانونام کی اس وقت اکیس سال کی پانچ مہینے کی حاملہ خاتون کی اجتماعی آبروریزی کرنے اور بلقیس کے خاندن کے ایک درجن سے زیادہ افراد کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا پائے گیارہ مجرمین کو گجرات سرکار کے ذریعہ رہا کئے جانے کا معاملہ سپریم کورٹ پہونچ گیاہے۔ اب اس معاملے کے ذریعہ سپریم کورٹ کے سخت امتحان کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔جن گیارہ مجرموں کو جیل ایڈوائزری کمیٹی کے ذریعہ چھوڑا گیا ہے انہیں سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ نے عمر قید کی سزا دی تھی جس پر بعد میں بامبے ہائی کورٹ نے بھی اپنی مہر لگادی تھی۔ جس جیل ایڈوائزری کمیٹی نے انہیں رہا کرنے کی سفارش کی اس میں بی جے پی کے پانچ ممبران شامل تھے۔ ایک ممبر مرلی مولچندانی گودھرا ٹرین جلائے جانے کے معاملے میں گواہ بھی رہے ہیں۔ کمیٹی میں شامل گودھرا سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی سی کے راؤل جی نے بعد میں کہا کہ مجرمین برہمن ہیں جو ’سنسکاری‘ ہوتے ہیں انہیں جیل میں رکھنا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے سبھی گیارہ لوگوں کو رہا کرنے کی سفارش کی۔ سوال یہ ہے کہ جب سرکار ہی انہیں چھوڑنے کا فیصلہ کرچکی تھی تو کمیٹی میں شامل افسران کی اتنی ہمت کہاں کہ اس کی مخالفت کرتے۔ ان گیارہ مجرمین کی رہائی سے اتنا خوف پیدا ہوگیا کہ بلقیس کہیں چھپ گئی ہیں۔ ان کے گاؤں رندھیک پورا میں رہنے والے سیکڑوں مسلمان گاؤں چھوڑ کر رحیم آباد ریلیف کالونی میں چلے گئے ہیں۔
 بلقیس کے مجرمین کو رہا کئے جانے کے بعد سے پورے ملک میں انصاف پسند لوگوں خصوصاً خواتین میں زبردست عصہ نظر آرہا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر اور احمد آباد سمیت ملک کے کونے کونے میں لوگ مظاہرہ کرتے اور دھرنا دیتے دیکھےگئے۔ ان لوگوں کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے کوئی بیان تک نہیں آیا۔ بیان آئے بھی کیسے پارٹی اور اس کی گجرات سرکار نے باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتہائی گھناؤنا اور بھیانک جرم کرنے والوں کو رہا کرایا ہے۔ سی پی ایم لیڈر سبھاشنی علی، لکھنؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر رہیں پروفیسر روپ ریکھا ورما اور صحافی ریوتی لاؤل نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں تئیس اگست کو ایک اپیل دائر کرکے اس معاملے کی جلد سنوائی کرنے اور مجرمین کو واپس جیل بھیجنے کی درخواست کی، ٹی ایم سی کی لوک سبھا ممبر مہوآ موئترا نے الگ سے ایک اپیل دائر کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھے گی۔ اب سپریم کورٹ کا سخت امتحان ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے یا گجرات حکومت کے ساتھ۔
بلقیس کے گاؤں رندھیک پورا میں رہ رہے ان کے چچا ایّوب نے بتایا کہ جب سبھی گیارہ لوگ چھوٹ کر آئے تو ان کے جلوس میں باقاعدہ ڈی جے بج رہا تھا، لاکھوں روپئے کے پٹاخے چھڑائے گئے اور نعرے بازی کی گئی۔ جگہ جگہ ان لوگوں کو ہار پھول پہنا کر استقبال کیا گیا۔ مسلمان اتنے خوفزدہ ہوگئے کہ وہ گا ؤں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ گاؤں کی چوبیس سال کی سلطانہ کہتی ہیں کہ وہ مجرم پہلے پیرول پر بھی چھوٹ کر آچکے ہیں۔ اس وقت مسلمان اس لئے  خوفزدہ نہیں ہوئے تھے کہ انہیں پتہ تھا کہ یہ لوگ پیرول پر چھوٹ کر آئے ہیں اور دوبارہ جیل چلے جائیں گے۔ لیکن اب تو وہ سب پوری طرح آزاد ہوگئے ہیں۔ اب وہ پھر وہی حرکتیں کرسکتے ہیں جو انہوں نے ۲۰۰۲ میں کی تھیں۔
 یاد رہے کہ ستائیس فروری ۲۰۰۲ کو گودھرا میں ہوئے شرمناک ٹرین حادثے کے بعد گجرات میں بڑے پیمانے پر مسلم مخالف دنگے بھڑکے تھے۔ دنگوں میں کئی ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ حالانکہ سرکار نے مرنے والے کی تعداد تین ہزار سے کم بتائی تھی۔دنگا گاؤں گاؤں پھیلا تو لوگ بھاگنے لگے، بلقیس اور اس کے کنبہ کے لوگ بھی اپنا گا ؤں چھوڑ کر بھاگے، درندوں نے ان کا پیچھا کیا تو لمکھیڑا تعلقہ کے ایک کھیت میں وہ سب چھپ گئے۔ درندے وہاں پہونچے، انہوں نے بلقیس اور اس کی والدہ سمیت کئی خواتین کی عزت لوٹی، سات لوگوں کو موقع پر ہی قتل کردیا، آٹھ لوگوں کو بعد میں مارا گیا۔ اس وقت بلقیس پانچ مہینے کی حاملہ تھی اور اس کی تین سال کی بچی صالحہ ساتھ میں تھی۔ وحشی درندوں پر نفرت کا زہر ایسا چڑھا تھا کہ انہوں نے بلقیس کی آنکھوں کے سامنے ہی تین سال کی بچی کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار ڈالا۔ گجرات پولیس نے معاملے میں ٹھیک سے کاروائی نہیں کی تو سپریم کورٹ نے معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا۔ سی بی آئی نے رپورٹ پیش کی اور ملزمان کی شناخت کی، پھر بھی یہ مسئلہ رہا کہ کیا گجرات کی کسی عدالت میں یہ معاملہ ٹھیک سے چل سکتا ہے۔ اس وجہ سے سپریم کورٹ نے ہی یہ معاملہ ممبئی منتقل کردیا۔ اکیس جنوری ۲۰۰۸ کو سی بی آئی کے اسپیشل عدالت کے جج یو ڈی سالوی نے ملزمان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنادی۔ ۲۰۱۸ میں بامبے ہائی کورٹ نے سبھی گیارہ مجرمین کی سزا برقرار رکھی اور سی بی آئی عدالت کا وہ فیصلہ بھی الٹ دیا جس میں ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر سات ملزمان کو بری کردیا تھا۔
سزا یافتہ مجرموں میں شامل رادھے شیام شاہ نے سپریم کورٹ میں دستک دی اور یہ کہا کہ اس نے پندرہ سال کی سزا مکمل کرلی ہے اس لئے سرکار کی معافی کی پالیسی کے مطابق اس کی رہائی کردی جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے معاملہ گجرات سرکار کو بھیج دیا کہ وہ اپنی سطح سے اس مسئلے پر غور کرے۔ بس گجرات حکومت کو موقع مل گیا۔ سرکار نے ایک جیل ایڈوائزری کمیٹی بنا دی جس میں پارٹی کے دو ممبران اسمبلی سمیت پانچ لوگوں کو شامل کردیا۔ کمیٹی میں گودھرا کلیکٹر، ایک مجسٹریٹ اور دیگر دو افسران کو بھی شامل کیا گیا۔ گودھرا سے بی جے پی کے ممبراسمبلی سی کے راؤل جی، قلیل کی ممبر اسمبلی سمن بین چوہان، گودھرا نگر نگم میں بی جے پی کے کارپوریٹر رہے مرلی مولچندانی، بی جے پی خاتون شاکھا کی اسنیہ بین بھاٹیہ اور بی جے پی اسٹیٹ ایگزیکیوٹیو کے ممبر سردار سنگھ باریا پٹیل کو سوشل ورکر کے نام پر شامل کردیا گیا۔ اس کمیٹی نے شیلیش بھٹ، رادھے شیام شاہ، متیش بھٹ، وپن جوشی، کیشر بھائی بوہنیا، بانکا بھائ بوہنیا، رمیش چاندنا، پردیپ موڑڈیا، راجیو بھائی سونی، گووند نائی اور جئے ونت نائی کی سزا معاف کرتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کرنے کا فیصلہ کردیا۔ پندرہ اگست کو آزادی کی پچھتّرویں سالگرہ کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین کا احترام اور عزت کرنے پر بڑا زور دیا تھا تقریر کرکے مودی اپنے گھر بھی نہیں پہونچ سکے تھے کہ ان کی گجرات سرکار نے سبھی گیارہ مجرموں کو رہا کردیا۔