نماز کے دوران افغانستان کی دارالحکومت کابل کی مسجد میں طاقتور بم دھماکہ، امام سمیت 20 نمازی ہلاک، درجنوں زخمی۔
نئی دہلی: افغان دارالحکومت کابل کی ایک مسجدمیں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 20 نمازیوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مسجد میں دھماکا نماز کی ادائیگی کے دوران ہوا۔
ترجمان کابل پولیس خالد زادران کا کہنا ہے کہ دھماکے میں متعدد افراد کی اموات کا خدشہ ہے، دھماکامسجد کےاندر ہوا ہے، 
طلوع نیوز کے مطابق دھماکا کابل کے علاقے پی ڈی 17 میں ہوا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 27 افراد کو اسپتال لایا گیا ہے جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں تاہم سوشل میڈیا پر افغان مبلغ امیر محمد کابلی کی تصاویر بھی زیر گردش ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہا ہےکہ جاں بحق ہونے والوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ اب تک کسی گروپ نے حملےکی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اس طاقتور بم دھماکہ میں 20 نمازی جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ دھماکہ چہارشنبہ کی رات عشاء کی نماز کے دوران کابل کے خیر خانہ کی صدیقہ مسجد میں پیش آنے کی اطلاع ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ مسجد میں ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے ہوئے ہیں دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکہ مشہور اسکالر عامر محمد کو نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے۔اس کے علاوہ مسجد کے امام بھی اس دھماکہ میں شہید ہونے کی اطلاع ملی ہے۔