گجرات حکومت کے ذریعہ بلقیس بانو گینگ ریپ کے قصورواروں کو رہا کرنے پر اقراء حسن نے پی ایم مودی کے خواتین کے احترام پر کھڑے کیۓ سوالات۔
شاملی: گجرات حکومت کی طرف سے بلقیس بانو کی عصمت دری کرنے والوں کی رہائی پر ایس پی لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم چودھری منوّر حسن کی بیٹی اقرا حسن نے مودی حکومت پر بڑا حملہ کرتے ہوئے پی ایم مودی کی خواتین کے احترام پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔
بدھ کو اقرا حسن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ  2002 کے گجرات فسادات میں"5 ماہ کی حاملہ خاتون بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی، اس کے پورے خاندان (بشمول ایک تین سالہ بچے) کا قتل کر کے ایک ہی  قبر میں دفن کیا گیا۔ ۔11 مجرموں کو گجرات حکومت نے "ہمدردی کی بنیادوں" پر رہا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پورا ملک ’’آزادی کے 75 سال‘‘ کے امرت مہوتسو میں سما گیا تھا اور وزیراعظم کی تقریر میں خواتین کی طاقت اور عزت کی بات کر رہے تھے، اسی دن اس پرتشدد واقعے کو انجام دینے والے مجرموں کو رہا کیا گیا، جو انتہائی شرمناک ہے اور خواتین کے احترام پر تار تار کرنے والا عمل ہے۔
مودی جی کو اب بتانا چاہیے کہ اپنی پالیسیوں اور اس بے شرمی کو چھپانے کے لیے ہمیں کتنے جھنڈے لہرانے کی ضرورت ہے۔

سمیر چودھری۔