ندیم کامبینہ دیوبند کنکشن، پوچھ تاچھ سے حاصل معلومات کی بنیاد پراے ٹی ایس نے مانگا ریمانڈ۔
لکھنو/سہارنپور: اتر پردیش اے ٹی ایس نے دعوی کیا ہے کہ سہارنپور کے تھانہ گنگوہ علاقے کے کنڈا کلاں گاؤں سے مبینہ ملک مخالف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیے گئے ندیم نے اے ٹی ایس کی پوچھ کچھ میں کئی اہم انکشاف کیے ہیں۔ اے ٹی ایس نے بتایا کہ ندیم پاکستان سے آئی پی ڈی ایف فائل پڑھنے کے لیے دیو بند جا تا تھا۔ وہ انگریزی۔اردو کی پی ڈی ایف فائل پڑھنے کے لیے 18 بار دیو بند گیا تھا۔ جہاں وہ کسی کی مدد سے اسے پڑھ کر سمجھتا تھا۔ اس علاوہ ندیم کے کنکشن یوپی کے دیگر شہروں اور بہار، جھارکھنڈ میں بھی پاۓ گئے ہیں ۔اسی وجہ سے اے ٹی ایس نے ندیم کو 10 دن کے ریمانڈ پر لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دراصل انٹلیجنس ایجنسیوں سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر 8 اگست کو یو پی اے ٹی ایس نے کنڈا کلاں گاؤں میں چھاپہ مار کر جیش محمد اور تحریک طالبان سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے کے الزام میں ندیم کو گرفتار کیا تھا۔ اے ٹی ایس نے ندیم کے پاس سے متنازع دستاویز کئی موبائل نمبر، موبائل فون میں پی ڈی ایف فائلز ، بم بنانے کے طریقے سمیت کئی مشکوک اشیاء برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔اے ٹی ایس کے مطابق ندیم 2 برس قبل دہرادون کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا لیکن کو رونا کے دور میں گھر واپس آیا۔ گھر آیا تو صرف موبائل میں مصروف رہتا۔ انسٹا گرام ،فیس بک، میسنجر ، ٹیلی گرام وغیرہ کے ذریعے شدت پسند تنظیموں سے جڑ گیا۔ ان تنظیموں نے ندیم کو نو پور شرما کو مارنے کا پہلا ٹاسک دیا۔ اس کے لیے آن لائن بم بنانے اور دھما کہ کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔
اے ٹی ایس کا دعویٰ ہے کہ ندیم جیش محمد کے کہنے پر بھارت میں کئی بڑی وارداتیں کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اے ٹی ایس نے مزید بتایا کہ جب ندیم سے سختی سے پوچھ گچھ کی تو اس نے کئی انکشاف کئے۔ وہ پاکستان میں رہنے والے رشتہ داروں کے بہانے خصوصی تربیت بھی لینا چاہتا تھالیکن بر وقت اے ٹی ایس نے اسے گرفتار کیالیکن ندیم کا دیو بندکنکشن سامنے آنے کے بعد اے ٹی ایس نے ندیم کوریمانڈ پر لینے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔اے ٹی ایس نے بتایا کہ پوچھ کچھ میں ندیم نے دیو بند سے تعلق رکھنے کا اعتراف کیا ہے ۔ ندیم کے مطابق وہ آٹھویں جماعت پاس ہے۔ اسے انگریزی اور اردو پڑھنا نہیں آتا جس کی وجہ سے وہ شدت پسند تنظیموں کے پیغامات اور پی ڈی ایف فائلیں حاصل کرنے کے لیے دیو بند آتا تھا۔ اے ٹی ایس نے مزید دعوی کیا کہ ندیم اردو اور انگریزی پیغامات پڑھنے کے لیے 18 بار دیو بند گیا تھا۔ سرویلنس کے ذریعے ایک مدرسہ میں 18 بار کی لوکیشن کا پتہ چلا ہے۔ جہاں وہ کسی مدرسے کے طالب علم یا دوسرے ساتھی سے اردو کا ہندی ترجمہ کرواتا تھا۔ دیو بند اے ٹی ایس انچارج سدھیر اجول کے مطابق ندیم کے پاس سے جیش محمد اور تحریک طالبان دہشت گرد تنظیموں کے رکن ہونے کے کئی ثبوت ملے ہیں۔ وہ فدائین حملے کی تربیت لینا چاہتا تھا۔اس کے بعد بھارت میں کئی بڑی وارداتیں کرنے کا منصوبہ تھا۔ دیو بند کنکشن ملنے کے بعد اے ٹی ایس نے عدالت میں درخواست کی ہے کہ ندیم کو 10 دن کے ریمانڈ پر لیا جاۓ تا کہ مقامی سطح پر اس سے پوچھ گچھ کی جاسکے۔

سمیر چودھری۔