جن کے ہاتھوں سے ترنگا نہ سنبھالا جائے٭ایسے نیتاوں کو سنسد سے نکالا جائے۔ آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر جانسٹھ میں "جشن تنویر گوہر " کے عنوان پر کل ہند مشاعرہ کا انعقاد۔
مظفر نگر:  آزادی کے 75 ویں امرت مہوتسو کے موقع پر مظفرنگر کے تاریخی قصبہ جانسٹھ میں "جشن تنویر گوہر" کے عنوان سے ایک کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے میں ہندوستان کے مشہور و معروف شعراءنے شرکت کی۔ مشاعرہ صبح 4 بجے تک پوری کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ مشاعرے کی خاص بات یہ رہی کہ صاحب جشن ڈاکٹر تنویر گوہر کو کنوینر مشاعرہ ساجد ملک عزیز نے اپنا استاد بنانے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں پگڑی،چادر ،اعزازی نشان اور 21000 ہزار روپے کا ہار پیش کیا۔ حاجی کامل ملک کی صدارت اور نو جوان شاعر التمش عباس کی نظامت میں مشاعرہ نے جانسٹھ کی سر زمین پر کامیابی کی نئی تاریخ رقم کی۔شاعر فیروز انور کی خوبصورت نعت پاک سے مشاعرے کا با برکت آغاز ہوا۔نامور شاعر خورشید حیدر نے یوم آزادی کے تعلق سے اپنے سحر انگیز ترنم میں جب ترانہءوطن پیش کیا ۔ صاحب جشن ڈاکٹر تنویر گوہر کے اعزاز میں مشہور شاعر احمد مظفرنگری نے سپاس نامہ پیش کیا۔مشاعرے کا افتتاح مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کر رہے حاجی کامل ملک، ریاست ملک ممبر، نعمان ملک،حافظ عباس ملک اور راشد راجپوت نے فیتا کاٹ کر اور ادبی شمع روشن فرما کر کیا۔ منتخب اشعار قارئین کی نذر ہیں۔
جن کے ہاتھوں سے ترنگا نہ سنبھالا جائے
ایسے نیتاو ¿ں کو سنسد سے نکالا جائے
          ۔ ہاشم فیروزآبادی
مری جانب محبت سے نہ دیکھو
محبت پر زوال آیا ہوا ہے
         ۔ خورشید حیدر
مسئلے کا حل نکالا جائے گا
شہر سے پاگل نکالا جائے گا
         ۔ تنویر گوہر
یاد دل سے مٹاناہے مشکل پہلی چاہت بھلانا ہے مشکل
اے کبوتر ذرا ا ±ن سے کہنا آج بھی یاد کرتا ہے کوئی
           ۔ نکہت امروہوی
اے وطن رہ کے پردیس میں ایسے گ ±ھٹ گ ±ھٹ کے روتے تھے ہم
جیسے بچے کسی بھیڑ میں اپنی ماں سے الگ ہو گئے
            ۔ ندیم شاد
آیت عشق روانی میں پڑھی جاتی ہے
یہ دعا صرف جوانی میں پڑھی جاتی ہے
           ۔ التمش عباس
ہر صبح یہ ہے مصیبت کیا بتاو ¿ں ڈاکٹر
یہ پتا چلتا نہیں کہ منہ کہاں تک دھو لیا
          ۔ جہاز دیوبندی
مجھے بس ترے سوا اب کوئی جستجو نہیں ہے
نہیں چاہیے وہ محفل کہ جہاں پہ تو نہیں ہے
           ۔ احمد مظفرنگری
پرانی سیف سے ماضی کا اک قصہ نکل آیا
میں چشمہ ڈھونڈتا تھا اور ترا جھمکا نکل آیا
             ۔ ارشد ضیائ
تنہائیوں کو اپنی آباد کر رہا ہوں
تری یاد آ رہی ہے تجھے یاد کر رہا ہوں
          ۔ افروز ٹانڈوی
جدائی اپنے بچوں کی اسے بے حد رلاتی ہے
وہ مفلس پیٹ کی خاطر مگرگھر چھوڑ دیتا ہے
           ۔ تحسین ثمر چرتھاولی
میں جسے دیکھ کے تجھکو ہی فقط یاد کروں
جانے والے مجھے اک ایسی نشانی دے جا
          ۔ دانش غزل
اب تو انصاف بھی سکوں کےعوض بکتاہے
لےکےقاتل کوعدالت میں میں جاو ¿ں کیسے
          ۔ فیروز انور
کاش آجائے کہیں سے ا ±ن کے گیسو کی مہک
زندگی کا زخم خوشبو میں بسا رہ جائے گا
          - شمیم اختر کوالوی
میرا بہتر اگرچہ حال نہ تھا
پر کسی سے کوئی سوال نہ تھا
         - ساجد ملک عزیز
مشاعرے میں جانسٹھ کے علاوہ کھتولی، چرتھاول، مظفرنگر اور اطراف کے سامعین نے بھی شرکت فرما شعراءکو داد تحسین سے نوازا۔

سمیر چودھری۔