جنگ آزادی میں دارالعلوم دیوبند کے فرزندوں کی قربانی کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ جامعہ اسلامیہ دارالعارفین کے ناظم مفتی محمد تھانوی کا پریس کو جاری بیان۔
ہندوستان کا یوم آزادی 15 اگست 1947 ہے جسمیں ملک کا ہر ایک باشندہ خوشیاں مناتا ہے، اور کوئی شبہ بھی نہیں کہ آزادی سے بڑھ کر خوشی منانے کی اور کوئی چیز بھی ہو، جب کہ آزادی ہی ہر خوشی کا سرچشمہ ہے، عام طور پر یہی دیکھنے کو ملتاہے کہ انگریزوں کے خلاف جنگ کا آغاز 1857 سے شروع ہوا یہ ایک جھوٹی افواہ ہے جو جان بوجھ کر پھیلائی جاتی ہے تاکہ 1857 سے سو برس پہلے جس تحریکِ آزادی کا آغاز ہوا اور جس کے نتیجے میں بنگال کےاندر سراج الدولہ نے 1757 میں، مجنوں شاہ نے 1776 تا 1780 میں، حیدر علی نے 1767 میں اور ٹیپو سلطان نے 1791 میں، مولوی شریعت اللہ اور ان کے بیٹے دادا میاں نے 1812 میں اور سید احمد شہید نے 1831 میں انگریزوں کے خلاف جو باقاعدہ جنگیں لڑیں وہ سب تاریخ کے اوراق میں دفن ہوکر رہ جائیں اور اہل وطن یہ نہ جان پائیں کہ مسلمان اس دن سے انگریزوں سے نفرت کرتا تھا جس دن اس نے اپنے ناپاک قدم اس سرزمین پر رکھے تھے،
جب انگریز نے 1803 میں دہلی کے اندر اعلان کیا کہ مخلوق خدا کی اور ملک بادشاہ کا لیکن آج سے حکم ہمارا چلے گا اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا، اس فتویٰ کی وجہ سے ان کو بڑی بڑی تکلیفیں دی گئی حتیٰ کہ ان کو زہر بھی دیاگیا ان کی آنکھوں کی روشنی اس زہر سے جاتی رہی، ان تمام مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگرد پیدا کردئے
ایک حضرت سید احمد شہید اور دوسرے شاہ اسماعیل شہید، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کرکے مسلمانوں سے جہاد پر بیعت لی اور ساتھ ساتھ یہ بھی عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کو آزاد کرانے کے لیے اپنی جان قربان کردینگے اس کے بعد ہزاروں مسلمان ان دونوں بزرگ کے ساتھ بالاکوٹ کے میدان میں شہید ہوئے یہ سب سے پہلا آزادئ وطن کے لیے جہاد تھا، جب 19 ستمبر 1857 میں بہادر شاہ ظفر قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرہ میں مقیم ہوگئے تھے، ان کو انگریز نے لال قلعہ پر قبضے کے اگلے دن گرفتار کرلیا اور دہلی پر انگریزوں کا پورا قبضہ ہوگیا اور ہرطرف ظلم و ستم قتل وغارت گری عام ہوگئی تو اس وقت امت کے جیالوں نے آزادی کی تحریک کو اپنے کاندھوں پر لیا ان میں حاجی امداد اللہ تھانوی مہاجر مکیؒ اور آپ کے مریدین باوفاء مولانا قاسم نانوتوی مولانا رشید احمد گنگوھی حافظ ضامن تھانوی شہید وغیرہ ہیں اور ان کے شاگردان باصفاء شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی مولانا مدنی مولانا آزاد مولانا جوہر برادران اور بھی بے شمار علماء و عوام نے اپنے خون و جگر سے اس گلشن کی آبیاری کی اور جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اس کی آزادی کو یقینی بنایا شیخ الہند نے تحریک ریشمی رومال شروع کی اور آپ ہی کے شاگردوں نے آزادی وطن کے لیے نومبر 1919 میں جمعیۃ علماء ہند قائم کیا، مولانا قاسم نانوتوی نے تحریک دیوبند کے نام ایک تحریک چلائی جگہ جگہ مدرسے قائم کئے اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے رفقاء حاجی عابد حسین دیوبندی مولانا ذوالفقار علی دیوبندی مولانا فضل الرحمن عثمانی اور مولانا رفیع الدین وغیرہم کی مدد سے 30 مئی 1866 جمعرات کے دن دیوبند کے اندر دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی تاکہ یہ مسلمانوں میں نظم پیدا کریں جو ان کو اسلام اور مسلمانوں کی اصل شکل میں قائم رکھنے میں معین ہو بقول حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ دارالعلوم دیوبند ہندوستان میں بقاء اسلام اور تحفظ علم کا ذریعہ ہے
الغرض ہر طرح کی قربانیاں دیتے ہوئے اور اس مشن اور تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے ہر طرح کی تدبیریں اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کو بھی شریک کیا مہاتما گاندھی کو ساتھ لیا اور دیگر ذمہ داروں کو شریک قافلہ کرکے جدوجھد کی ہمارے ان ہی بزرگوں اور بے لوث مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں 14-15 اگست 1947 کی درمیانی شب ہندوستان کی آزادی کا اعلان کیا گیا

   مفتی محمد (تھانوی)
ناظم جامعہ اسلامیہ دارالعارفین
قصبہ تھانہ بھون ضلع شاملی