مولانا جلال الدین عمری بے پناہ خصوصیات کے مالک کے تھے، مرحوم کے انتقال پر دیوبند کے نامور علماءکرام نے کیا رنج و الم کااظہار۔
دیوبند:سمیر چودھری.
ممتاز عالم دین وسابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا جلال الدین عمری کے انتقال کی خبر کے بعد ملت اسلامیہ میں غم کی لہر دوڑگئی، ان کی وفات سے علمی اور مذہبی و ملی حلقوں میں غم کا ماحول ہے، ان کے انتقال پر دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت ؒ کے سانحہ ارتحال کی خبر سے حلقہ ہائے علم و فکر میں بلکہ برصغیر میں شدید رنج و الم ہے،مرحوم کی عظیم علمی،فکری و تصنیفی نیز اشاعت دین کے حوالے سے کی جانے والی عظیم و لائق تقلید جہود و کاوش اور عظیم تر کارناموں سے علمی وابستگی رکھنے والے ہزارہا ہزار افراد ملت نے ایک عظیم خلاءکو محسوس کیا ہے ۔ مرحوم و مغفور کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا۔مرحوم کی خاندان قاسمی سے گہری نسبت اورا نسیت رہی ہے، جماعت اسلامی ہند،ادارہ تحقیقات اسلامیہ ودیگر باوقار پلیٹ فارم سے مرحوم کی علمی وعملی ،فکری واصلاحی ،سماجی وفلاحی کوششیں و خدمات اور ان کی ثمرآور محنتیں آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہونگی۔  انہوں نے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم وقف دیوبند کا ماحول اس المناک خبر سے سوگوار بھی اورمصروف دعاءو ایصال ثواب بھی ہے۔ 
معروف عالم دین اور مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا سید جلال الدین عمری دور حاضر کے ان گنے چنے افراد میں تھے جنہوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں مختلف الجہات خدمات انجام دیں۔ مرحوم کی اپنی پوری زندگی علمی دینی قرآنی مذہبی سماجی معاشرتی ملی دعوتی تصنیفی وتالیفی شعبوں میں بے لوث طریقہ پر جو خدمات انجام دیں ان کا کوئی بدل نہیں ھے۔ وہ جماعت اسلامی ہند کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی ارکان میں سے تھے۔مسلم مجلس مشاورت اور دیگر بہت سی تنظیموں کے ذریعہ انہوں نے اتحاد ملت کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جو بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔مولانا سید جلال الدین عمری کی وفات کی خبر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیری نے کہا کہ ملتِ اسلامیہ ہندیہ ایک مخلص رہ نما سے محروم ہو گئی۔مرحوم مزاجی اعتدال، علمی گہرائی، اخلاقی بلندی اور عالی ہمتی کے اعتبار سے موجودہ دور میں ایک مثال تھے۔ میرے والدِ مرحوم فخرالمحدثین حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیریؒ سے بھی ان کے بڑے اچھے مراسم تھے۔ نوادراتِ امام کشمیری کا اجرا دہلی میں ہوا تو اس کی رسمِ اجرا میں مولانا مرحوم نے بھی بطورِ خاص شرکت کی۔
ممتاز ادیب اور دارالعلوم وقف کے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا جلال الدین عمری ایک سنجیدہ اور اسلامی فکر رکھنے والی اہم شخصیت تھی، جنہوں نے پوری زندگی اسلامی تعلیم وفکر کی اشاعت میں گزاری ۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کے اوپر رحمتیں نازل فرمائے۔
ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا عمری کی پوری زندگی علم اور انسانیت کی خدمت میں گزری۔ وہ بڑے مقبول مصنف بھی تھے۔ قلم سے ان کا رشتہ قابلِ رشک حد تک مستحکم تھا،اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ 
عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے مولانا کے حادثہ فاجعہ کو ملت کا ایک عظیم سانحہ قرار دیا۔انھوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا نے قوم و ملت کی گراں بار ذمہ داریوں کو ایک طویل و عریض مدت تک اپنے کاندھوں پر اُٹھائے رکھا، وہ ہمیشہ ملت کے حوصلوں میں توانائی بھرنے کا کام کرتے رہے،ملت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ متحرک رہے،دوسری ملی جماعتوں کو ساتھ لے کر ملی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے، اِسی میں انھوں نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ صرف کیا ہے۔
علاوہ ازیں ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی، یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری حاجی ڈاکٹر عبیداقبال عاصم نے بھی مرحوم کے انتقال پر نج وغم کااظہار کیا۔