امریکہ کی انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں کا بلقیس بانو کو انصاف دلائے جانے کا صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے
مطالبہ۔
واشنگٹن: (ایجنسی)امریکہ میں انسانی حقوق کے گروپوں کے اتحاد نے بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی قبل از وقت رہائی کی شدید مذمت کی ہے اور صدر دروپدی مرمو سے گجرات 2002 کے فسادات کے متاثرین کی مدد کے لیے مداخلت کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نے بلقیس کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو چھوٹ دی ہے تو متاثرہ کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

انٹرنیشنل سوسائٹی فار پیس اینڈ جسٹس (آئی ایس پی جے) نے صدر پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ اور گجرات حکومت سے استثنیٰ کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے رجوع کریں، جس سے نہ صرف بلقیس بانو کے خاندان کے افراد بلکہ عام لوگوں کی حفاظت پر توجہ دی جائے۔ آئی ایس جے پی کی جانب سے صدر کو لکھے گئے خط میں لکھا گیا: ’’یہ فیصلہ ہندوستان میں عصمت دری کا شکار ہونے والے ہر اس شخص کے منہ پر طمانچہ ہے جس نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے، اور ساتھ ہی وہ جو گجرات فسادات میں بچ گئے اور اب بھی انصاف کی تلاش میں ہیں۔‘‘خط میں لکھا گیا، ’’ہم ایک نوجوان مسلم خاتون کی اجتماعی عصمت دری میں ملوث 11 افراد کی رہائی اور خاتون کی 3 سالہ بیٹی سمیت اس کے 7 رشتہ داروں کے قتل کے بارے میں اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کو خط لکھ رہے ہیں۔‘‘آئی ایس جے پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر مودی چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے گروپ میں شامل کیا جائے تو انہیں ایسی پہل کرنی چاہئے تاکہ تمام مذاہب کی خواتین کو سماج میں برابری کا مقام حاصل ہو۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا کہ ہندوستان مہذب دنیا کا حصہ نہیں بن سکتا اگر اس کے رہنما مجرموں کو رہا کرتے ہیں اور پھر انہیں راضی کرتے ہیں۔