ٹیپو سلطان نے چار بار انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی، ساورکر نے چار بار معافی مانگی۔ ٹیپو سلطان کی توہین کرنے والوں پر اسد الدین اویسی کا بڑا حملہ۔
نئی دہلی: کرناٹک کے شیموگہ قصبے میں گزشتہ ہفتے ویر ساورکر اور ٹیپو سلطان کے فلیکس بورڈز کی تنصیب کو لے کر تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ تشدد کے باعث پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
اب اس معاملے پر اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کا ٹیپو ساورکر کا موازنہ کرنے والا بیان سامنے آیا ہے۔ اویسی نے اپنے بیان میں ٹیپو سلطان اور ویر ساورکر کا موازنہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 'ٹیپو سلطان کی انگوٹھی ایک لاکھ 45 ہزار پاؤنڈ میں نیلام ہوئی اور اس انگوٹھی پر کیا لکھا تھا... اس انگوٹھی پر رام کا نام لکھا ہوا تھا۔ تو نیلام کرنے والی کمپنی نے لکھا کہ حیرت کی بات ہے کہ ایک مسلمان شہنشاہ کے پاس ایسی انگوٹھی ہے۔ تو اس سے کیا پتہ چلا... پتہ چلا کہ ٹیپو ہندوؤں کے خلاف نہیں تھے۔ وہ انگریزوں کے خلاف تھے۔ ٹیپو ہر اس مذہب کے خلاف تھا جو انگریزوں کی غلامی قبول کرنا چاہتا تھا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، ''لیکن ٹیپو انگریزوں کی غلامی قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ٹیپو اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرنا چاہتے تھے۔ ٹیپو عظیم مجاہدین آزادی اسی ہندوستان کے ہیں۔ اسی لیے آئین بنانے والوں نے آئین ہند کی پہلی کتاب میں جھانسی کی رانی کے ساتھ ٹیپو کی تصویر لگا دی ہے۔ تو جو لوگ آج ٹیپو اور ساورکر کے بارے میں بحث کر رہے ہیں تو پھر زمین کہاں ہے اور آسمان کہاں ہے۔ ٹیپو سے کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
اویسی نے مزید کہا، “اس وطن عزیز میں کچھ لوگ ہیں جو ٹیپو سلطان سے نفرت کرتے ہیں اور ٹیپو سلطان کی قربانی کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ٹیپو نے چار بار انگریزوں سے جنگ کی اور ساورکر نے چار بار انگریزوں کو معافی کا خط لکھا۔ ٹیپو اور ساورکر میں یہی فرق ہے۔‘‘