آزادی کے پچھتّر سال اور ترنگا: حسام صدیقی۔
اداریہ
جدید مرکز، لکھنؤ
مؤرخہ ۱۴ تا ۲۰ اگست، ۲۰۲۲
ملک آزادی کے پچھتّر سال کا جشن منا رہا ہے ایسے مبارک موقع پر بھی قومی پرچم یعنی ترنگے کے بہانے ملک میں سطحی سیاست نظر آئی۔ ملک کے ایک سو چالیس کروڑ عوام کی دیش بھکتی ناپنے کا پیمانہ ترنگا بنا دیا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں کئی باتیں کہیں، سب سے پہلے یہ کہ دو اگست سے ہی لوگ اپنے گھروں پر ترنگا پھہرا کر دیش بھکتی اور ملک سے محبت کا جذبہ مضبوط کریں۔ پھر انہو ںنے کہا کہ سب لوگ سوشل میڈیا کی اپنی ڈی پی میں بھی ترنگا لگائیں۔ تین اگست کو دہلی میں لال قلعہ سے انڈیا گیٹ تک بی جے پی نے ترنگا بائیک ریلی نکالی، اسی کے ساتھ سطحی سیاست بھی شروع ہوگئی۔ اس ریلی میں اسمرتی ایرانی، انوراگ ٹھاکر اور جتیندر سنگھ جیسے بمشکل آدھا درجن جونیئر منسٹر اوربی جے پی کے تقریباً اتنے ہی ممبران پارلیمنٹ اس موٹر سائیکل ریلی میں شامل ہوئے، بی جے پی صدر جے پی نڈّا سمیت مودی وزارت کے باقی وزیر بھی ریلی میں شامل نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود اسمرتی ایرانی، انوراگ ٹھاکر، روی کشن شکلا اور منوج تیواری وغیرہ نے کانگریس پر حملے کرتے ہوئے کہا کہ کانگریسیوں نے اس ترنگا بائیک ریلی میں شامل نہ ہو کر بتا دیا کہ انہیں ملک اور ترنگے سے کوئی محبت نہیں ہے۔ کانگریس پر حملہ کرنے والے یہ بھول گئے کہ ان کی ریلی میں جب ان کے تمام وزیر ہی نہیں شامل ہوئے تو وہ کانگریس کو کیوں کوس رہے تھے۔
کانگریس صدر راہل گاندھی نے خود اور ان کی پارٹی کے تمام لوگوں نے اپنے اپنی ڈی پی میں ترنگا تو لگایا لیکن وہ ترنگا جسے نہرو اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی کرناٹک کے ایک جلسہ میں راہل گاندھی نے کہا کہ آر ایس ایس دیش بھکت نہیں ہے اسے تو ہمیشہ سے ہی ترنگے سےنفرت رہی ہے۔ آزادی سے باون سال بعد ۲۰۰۲ تک تک آر ایس ایس نے ا پنے دفتر میں ترنگا نہیں پھہرایا، پھر مودی راشٹربھکتی کو ترنگے سے کیوں جوڑ رہے ہیں۔ جئے رام رمیش سمیت کانگریس کے دیگر لیڈران نے بھی اس مسئلے پربی جے پی اور آر ایس ایس کو گھیرا اور دونوں طرف سے سطح سے نیچے جا کر بیان بازی کی گئی۔ تو کیا اب دیش بھکتی ناپنے کا پیمانے یہی مانا جائے گاکہ کون گھر پر اور ڈی پی میں ترنگا لگا رہا ہے اور کون نہیں؟
وزیراعظم نریندر مودی بھی طرح طرح کے نعرے لگانے میں ماہر ہیں، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ جمہوریت بچانے، بے روزگاری، مہنگائی اور بے تحاشہ وصولی جارہی جی ایس ٹی کا ہے۔ انہی مسائل پر سڑک سے پارلیمنٹ تک ہنگامہ ہورہا ہے تو وزیراعظم مودی نے ترنگا راگ چھیڑ کر تمام مسائل سے ملک کا دھیان ہٹانے کی ایک کوشش کی ہے۔ ان کے کہنے پر بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھروںپر اور ڈی پی میں ترنگا لگایا بھی ہے۔ ایسا کرنے وا لوں کی بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ہمیشہ سوتے جاگتے ملک اور ملک کے لوگوں کے ساتھ غداری ہی کرتے رہتے ہیں۔ انتہا یہ کہ مرتے مریضوں کو چڑھانےکے لئے غداروں کی ایک ٹولی نقلی خون تک سپلائی کرتی ہے۔ یوپی میں ہی نقلی خون کے کاروباری پکڑے گئے ہیں لیکن وہ سب راشٹربھکت ہیں۔ کھانے کے سامان میں ملاوٹ کرنے والوں، کووڈ کے دوران پچیس سے پچاس ہزار روپئے تک آکسیجن سلینڈر بیچنے والوں، ریمڈیسیور انجیکشن کے لئے تیس تیس ہزار وصول کر کے بھی نقلی انجیکشن سپلائی کرنے والوں،دودھ اور کھانے کے تیل میں ملاوٹ کرکے کروڑوں لوگوں کی صحت برباد کرنے والوں اور نقلی نوٹ چھاپنے والوں نے سب سے پہلے اپنے گھروں اور ڈی پی پر ترنگا لگایا تو کیاہم محض ترنگے کی وجہ سے انہیں دیش بھکت کہنے لگیں گے۔
وزیراعظم نریندر مودی اگر ملک میں صحیح معنی میں راشٹربھکتی کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے یہ کیوں نہیں کہا کہ آزادی کے پچھتّر سال ہوئے ہیں ملک میں ہر شعبے میں ترقی ہوئی ہے، آئیے ہم پورے ملک کے لوگ مل کر اس موقع پر عہد کریں کہ کوئی بھی شخص کھانے پینے کے سامان میں ملاوٹ نہیں کرے گا، ہولی دیوالی جیسے اہم تہواروں کے موقع پر نقلی کھویا اور ملاوٹی تیل نہیں بیچے گا، ملک میں نقلی دواؤں کا جو اربوں کھربوں کا کاروبار چل رہا ہے اسے روکا جائے گا، ملک میں نقلی نوٹ نہیں چھپنے دیئے جائیں گے، ہر شخص ایک دوسرے سے پیار محبت سے پیش آئے گا۔ اپنے وقتی فائدہ کے لئے کوئی بھی شخص اپنے اصولوں اور ملک کے وقار کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بجلی چوری نہیں کی جائے گی اور کوئی بھی سرکاری جائیداد یا کسی املاک پر قبضہ نہیں کرے گا۔ اگر ان باتوں پر غور اور عمل کرنے کے لئے وزیراعظم کی سطح سے گاؤں کے غریب آدمی کی سطح تک کے لوگ تیار نہیں ہیں تو صرف جھنڈا لگانے سے دیش بھکتی کا ڈھونگ تو ہوسکتا ہے دیش بھکتی نہیں اور نہ ہی صرف جھنڈا لگانے سے ملک کے وقار میں اضافہ ہوگا۔
ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا آئین دنیا کا بہترین آئین ہے اور ہماری جمہوریت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے تو کیا یہ باتیں صرف کہنے کے لئے ہیں۔کیا ان پر عمل کرنا دیش بھکتی نہیں ہے کیا سرکار ملک کے لوگوں کے ساتھ آئین کے ذریعہ کئے گئےوعدے پورے کررہی ہے۔ اگر نہیں تو کس بات کی دیش بھکتی۔ ہم اپنی جمہوریت کی بڑائی تو بہت کرتے ہیں لیکن ملک میں جمہوریت رہنے نہیں دینا چاہتے۔ پچھتّر سالوں میںہی جمہوریت ختم کرنے پر تلے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بی جے پی صدر جے پی نڈّا نے پٹنہ میں کیوں کہا کہ ۲۰۲۴ تک ہم ملک کو ’اپوزیشن مکت‘ بنا دیں گے۔ اب اگر اپوزیشن ہی نہیں ہوگا تو جمہوریت کیسے ہوگی؟ ویسے بھی گزشتہ آٹھ سالوں میں ملک کی جمہوریت پر ہی سب سے  زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ جمہوریت کا مطلب تو یہ ہے کہ ملک اور ریاست کے عوام الیکشن میں جس کسی پارٹی کو چنیں اس کی سرکار رہنی چاہئے کیا آج ایسا ہورہا ہے؟ جیت کر کوئی پارٹی آتی ہے لیکن توڑ پھوڑ، خرید فروخت کے ذریعہ سرکار بی جے پی کی بنا لی جاتی ہے۔ پھر عوام کی ر ائے اور جمہوریت کا کیا مطلب رہ گیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں ا پنی دیش بھکتی ثابت کرنے کے لئے ترنگا پھہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت سارے کام اورسرگرمیاں ہیں جنہیں پورا کرنے کی ضرورت پہلے ہے۔جو لوگ آئین پر عمل نہیں کرتے اور ملک میں جمہوریت نہیں رہنے دینا چاہتے انہیں دیش بھکت کہنے میں کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔