جگدیپ دھنکھڑ ملک کے نائب صدر منتخب، جانیں کون ہیں نو منتخب نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ۔
نئی دہلی: بی جے پی کے سینئر لیڈر اور این ڈی اے کے امیدوار جگدیپ دھنکھڑ کو ملک کا اگلا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔ ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئے نائب صدر کے انتخاب میں دھنکھر کو 528 ووٹ ملے۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی امیدوار مارگریٹ الوا انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
یہ جانکاری نائب صدر کے انتخابی افسر اور لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں دی۔
کون ہیں ملک کے نو منتخب نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ ہیں۔
راجستھان کے جھنجھنو ضلع کے ایک جاٹ اکثریتی گاؤں میں پیدا ہوئے، نو منتخب نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے کیریئر کی پہلی پسند وکالت تھی۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر میں ہندوستانی سیاست کے کئی رنگوں کا تجربہ کیا اور اس دوران یونین کونسل آف منسٹرس کی رکنیت لے کر گورنر کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے اب وہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے آئینی عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں۔
18 مئی 1951 کو ٹھیکانہ گاؤں میں پیدا ہوئے، شری دھنکھر ماں کیسری دیوی اور والد گوکل چند کے چار بچوں میں سے دوسرے نمبر پر ہیں۔ اُنہوں نے نے پانچویں جماعت تک کی تعلیم ٹھیکانہ گاؤں میں ہی لی۔ اس کے بعد میٹرک کی تعلیم کے لیے گرتھانہ گئے۔ اُنہوں نے چندی گڑھ سینک اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔ وہیں بارہویں جماعت تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے گریجویشن تک فزکس کی تعلیم حاصل کی اور راجستھان یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ بارہویں جماعت کے بعد، ان کا انتخاب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) کے لیے ہوا لیکن انھوں نے راجستھان یونیورسٹی سے بی ایس سی اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کا امتحان بھی پاس کیا لیکن قانون کو اپنا کیریئر بنا لیا۔ انہوں نے 1979 میں راجستھان بار کونسل میں شمولیت اختیار کی اور 1990 میں انہیں ہائی کورٹ کا سینئر وکیل نامزد کیا گیا۔ فروری 1979 میں، سدیش دھنکھڑ سے شادی ہوئی اور ان کے خاندان میں بیٹے دیپک اور بیٹی کامنا آئی۔ بیٹے دیپک کا انتقال 14 سال کی عمر میں ہو گیاتھا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں سے بھی وابستہ رہے۔
اس دوران انہوں نے سپریم کورٹ میں بطور وکیل بھی خدمات انجام دیں اور ملک کی دیگر عدالتوں میں بھی مقدمات لڑے۔ وہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔
دھنکھڑ نے اپنا سیاسی سفر آنجہانی سابق وزیر اعظم وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی قیادت والی جنتا دل سے شروع کیا اور بعد میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔ سیاست میں ان کا آخری پڑاؤ بھارتیہ جنتا پارٹی تھا۔ وہ 1979 کے درمیان جھنجھنو لوک سبھا حلقہ سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور اس عرصے کے دوران وشوناتھ پرتاپ سنگھ اور چندر شیکھر حکومتوں میں وزیر رہے۔ جنتا دل کی تقسیم کے بعد وہ شری ایچ ڈی دیوے گوڑا کے کیمپ میں چلے گئے۔ جنتا دل میں وہ بنیادی طور پر دیوی لال کے قریب تھے اور یہ دیوی لال ہی تھے جنہوں نے انہیں ناراض ہو کر الیکشن لڑنے پر مجبور کیا تھا۔ مرکز میں نرسمہا راؤ کی حکومت کے قیام کے بعد وہ کانگریس میں چلے گئے۔
بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوئے اور 1993 سے 1998 تک کشن گڑھ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کی۔ انہوں نے 2003 میں بی جے پی کا جھنڈا اٹھایا۔
مودی حکومت میں جولائی 2019 میں انہیں مغربی بنگال کا گورنر بنایا گیا، جہاں انہوں نے عوام کے گورنر کے طور پر سرگرمی دکھائی۔ اس کو لے کر انہوں نے ممتا حکومت کے ساتھ تناؤ بھی ظاہر کیا، لیکن انہیں نائب صدر کا امیدوار بنانے کے اعلان سے قبل دارجلنگ کے راج بھون میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس لیڈر ممتا بنرجی سے ان کی ملاقات زیر بحث رہی۔ مسٹر دھنکھڑ کے انتخاب کو ترنمول کی طرف سے اس انتخاب میں ووٹ نہ دینے والے ممبران پارلیمنٹ کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا اور مخالف امیدوار مسز مارگریٹ الوا نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔
مسٹر دھنکھڑ موجودہ نائب صدر وینکیا نائیڈو کی میعاد 10 اگست کو ختم ہونے کے بعد راجیہ سبھا کی صدارت کے ساتھ ساتھ عہدہ بھی سنبھالیں گے۔

سمیر چودھری۔