گینگ ریپ کے مجرموں کی رہائی پر متاثرہ بلقیس بانو کا چھلکا درد، کہا کہ مجرموں کی رہائی نے میری زندگی کا سکون چھین لیا ہے، مجھے سکون سے جینے کا حق واپس دیں۔
نئی دہلی: 2002 کے گجرات فسادات کے دوران خاندان کے کئی افراد کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے 11 افراد کی رہائی کے بعد بلقیس بانو کا پہلا بیان سامنے آیا ہے۔
بلقیس نے بدھ کے روز کہا کہ اس اقدام نے انصاف پر ان کے اعتماد کو متزلزل کر دیا، انہوں نے کہا کہ دو دن پہلے 15 اگست 2022 کو پچھلے 20 سال کا درد دوبارہ ظاہر ہوا، جب میں نے سنا کہ میرے خاندان اور میری زندگی کو تباہ کرنے والے اور میری 3 سالہ بیٹی کو مجھ سے چھیننے والے 11 مجرم رہا ہو گئے ہیں۔ بلقیس نے کہا، "میرے پاس کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ میں حیران ہوں، میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ ایک عورت کے لیے انصاف اس طرح کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ عدالت پر بھروسہ تھا، مجھے نظام پر بھروسہ تھا اور میں اس بڑے 'صدمے' کے ساتھ آہستہ آہستہ جینے کی عادت ڈال رہی تھی۔"
انہوں نے کہا، "ان مجرموں کی رہائی نے میری زندگی کا سکون چھین لیا ہے اور انصاف پر میرا یقین متزلزل کر دیا ہے۔ میرا دکھ اور ڈگمگانے والا یقین صرف میرے لیے نہیں، بلکہ ہر اس عورت کے لیے ہے جو عدالتوں میں انصاف کی تلاش میں ہے۔"اُنہوں نے کہا کہ "اتنا بڑا اور غیر منصفانہ فیصلہ لینے سے پہلے کسی نے میری حفاظت اور بھلائی کے بارے میں نہیں سوچا، میں گجرات حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ فیصلہ واپس لے، سکون کے ساتھ اور خوف کے بغیر جینے کا میرا حق واپس دے۔"
اہم بات یہ ہے کہ گجرات حکومت نے اپنی معافی کی پالیسی کے تحت تمام مجرموں کی رہائی کو منظوری دے دی ہے۔ ممبئی کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے 21 جنوری 2008 کو بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور اس کے خاندان کے سات افراد کے قتل کے الزام میں 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں ان کی سزا کو بمبئی ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

سمیر چودھری۔