لنگایت مٹھ کے سنت شیومورتی کو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
نئی دہلی: کرناٹک کے چتردرگا میں موروگا مٹھ کے سربراہ سنت شیومورتی موروگا کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ شیوامورتی موروگا کو پیر کو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شیومورتی چتردرگا کے مشہور مروگا مٹھ کے خصوصی پجاری ہیں۔ تاہم ان پر لگائے گئے جنسی استحصال کے الزامات کے بعد مٹھ بھی سوالوں کی زد میں ہے۔
معلومات کے مطابق شیومورتی کو ہاویری ضلع سے گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس نے مٹھ کے زیر انتظام ایک ادارے میں نابالغ طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ جنسی ہراسانی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ادارے کی دو نابالغ طالبات نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔

جس کے بعد میسور پولیس نے شیومورتی مروگا کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ مروگا کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (POCSO) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مٹھ کے ذریعہ چلائے جانے والے اس اسکول میں پڑھنے والی دو طالبات نے میسور میں ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) 'اودانادی سیوا سنستھان' سے رابطہ کیا تھا۔ یہ ٹرسٹ ان خواتین اور بچوں کے بچاؤ، بحالی اور بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا ہے جو اسمگلنگ اور جنسی استحصال کا شکار ہیں۔

نابالغوں نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا احوال بیان کیا، جس کے بعد یہ معاملہ ڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے نوٹس میں لایا گیا۔ پولیس میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، موروگا مٹھ کے ہاسٹل میں رہنے والی 15 اور 16 سال کی لڑکیوں کو ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصے سے جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا تھا۔