جمعیہ علماء ہریانہ پنجاب ہماچل کی مجلس عاملہ میں دینی مکاتب کے قیام، اصلاح معاشرہ اور تحفظ اوقاف کے سلسلہ میں کئی اہم تجاویز منظور۔ ملک کے موجودہ حالات میں جمعیۃ سدبھاؤنا منچ کی تحریک انتہائی مؤثر ہوگی۔مولانا علی حسن مظاہری۔ عصری تعلیم کے حصول کے ساتھ دینی تعلیم کو اولیت دی جائے۔
یمنا نگر، ہریانہ:  جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب ہماچل چنڈی گڑھ کے ارکان عاملہ کااجلاس دارالعلوم امدادیہ گڑھی یمنا نگر ہریانہ میں ادارہ کے ناظم اور جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کے صدر مولانا علی حسن مظاہری کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلاس کا آغاز دارالعلوم امدادیہ کے استاذ قاری محمد یاسر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ اس اجلاس کی مکمل کارروائی جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب ہماچل چنڈی گڑھ کے نائب سکریٹری مولانا عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی نے چلائی ۔
اس اجلاس میں تینوں صوبوں کے ارکان عاملہ نے شرکت کی۔سب سے پہلے مولانا عبداللہ خاالد قاسمی خیرآبادی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی جس کی تمام حاضرین مجلس نے تائید کی۔ ملک کے موجودہ حالات میں جمعیۃ علماء کی بہتر اور مؤثر کارکردگی کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے ،اور عصری تعلیم کے حصول کے ساتھ دینی تعلیم کو اولیت دی جائے ۔
قومی یکجہتی کو عام کیا جائے ،اسلام کا صحیح تعارف دیگر برادران وطن کے سامنے پیش کیا جائے ،اس کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی تحریک ’’سدبھاؤنا منچ‘‘ بہت ہی زیادہ مؤثر ہوگی۔
تینوں صوبوں میں دینی تعلیم کے جائزہ کے لئے ایک سروے فارم بھی منظور کیا گیا جس کو ناظم اجلاس مولانا عبداللہ خٓلد قاسمی نے مجلس میں پیش کیا ،اسی طرح جمعیۃ علماء کی تحریک ’’سدبھاؤنا منچ‘‘ کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کے لئے 28؍اگست کو تینوں صوبوں میں اجلاس منعقد کئے جانے کی تجویز منظور کی گئی ،تینوں صوبوں میں تقریباً 30؍مقامات پر قومی یکجہتی اور اسلام کا صحیح تعارف کے عنوان سے برادرانِ وطن کی موجودگی میں اس طرح کے پروگرام کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ’اس موقع سے نائب سکریٹری مولانا عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی نے ’’سدبھاؤنا منچ:تعارف،اہمیت اور طریقۂ عمل کے عنوان سے مفید معلومات فراہم کیں 
طے یہ کیا گیا کہ تینوں صوبوں میں اصلاح معاشرہ کی تحریک کو اور منظم اور فعال بنایا جائے اس کے لئے بھی صدر اجلاس مولانا علی حسن مظاہری کی جانب سے عشرۂ اصلاح معاشرہ (21؍ستمبر 2022ء سے 30؍ستمبر 2022ء تک) منانے کا تجویز رکھی گئی جس کو باتفاق منظور کیا گیا۔
اسی سلسلہ میں یہ طے کیا گیا کہ معاشرتی اصلاح کے لئے ہر ہر ضلع میںاصلاحِ معاشرہ کمیٹی بنائی جائے اور ہر ہر مسجد میں ہفتہ واری پروگرام رکھا جائے ،اور تمام لوگوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے ،خواتین کی شرکت بھی پردہ کے گہتمام کے ساتھ ضروری قرار دی جائے ۔
مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اور خاص طور سے نئی نسل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سیرت سے نا واقف ہے جس کی وجہ سے غیروں کی طرف سے جو شکوک و شبہات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیدا کئے جاتے ہیں ،لوگ شکار ہوجاتے ہیں ،اس لئے طے کیا گیا کہ مستقل ایک تحریک کی شکل میں سیرت النبی کو عام کرنے کے لئے مدارس و مکاتب اور اسکول و کالج میں پروگرام منعقد کئے جائیں اور باقاعدہ اس کو مسابقاتی اور انعامی پروگرام کی شکل دی جائے تاکہ طلبہ کی دلچسپی کا سبب ہو۔
صدر اجلاس کی جانب سے تحفظ اوقاف کے سلسلہ میں بات آئی اور اس پر یہ تجویز منظور ہوئی کہ پورے ہندوستان میں عام طور سے اوقاف کا مسئلہ ایک نازک مسئلہ بنتا جارہا ہے اس لئے اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اس کے لئے ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی سے دریغ نہ کیا جائے۔
 اس اہم میٹنگ میں میوات سے مولانا محمد یحیٰ کریمی ناظم جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب ،مولانا محمداکرام ندوی پپلی مزرعہ ،ماسٹر محمد قاسم میوات خازن جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مفتی سلیم احمد ساکرس،مولانا سلیم قاسمی گڑگاواں ،مولانا شریف احمد پپلی مزرعہ ،حافظ مطلوب حسن نارائن گڑھ،مولانا مہتاب عالم صوابڑی،حافظ محمد انس مالیر کوٹلہ،مفتی مرغوب عظیم آباد،پنجاب،حاجی محمد اختر منڈی ہماچل ،حاجی محمد اکرام پانی پت،مولانا محمد عارف لدھیانہ،مولانا محمد ساجد مفتاحی لدھیانہ ،مولانا محمد راشد بھٹنڈہ پنجاب،حافظ محمد سلیم سرمور ہماچل ،مولانا حکیم الدین نالہ گڑھ ،قاری محمد اسلم بڈیڈ،مولانا محمد عارف گڑھی جلالپور ،حاجی محمد یونس ترن تارن وغیرہ نے شرکت کی۔
جمعیۃ علماء ضلع یمنا نگر کے سکریٹری حافظ محمد احمد رشید اور حافظ محمد تعریف ناظم تعمیر و ترقی دارالعلوم امدادیہ ،مولانا عبدالمالک مظاہری ،قاری فرید الدین اور تمام اساتذہ و طلبۂ دارالعلوم امدادیہ نےتمام مہمانوں کا استقبال کیا،صدر اجلاس مولانا علی حسن مظاہری کی دعا پر اس میٹنگ کا اختتام ہوا۔