دارالعلوم دیوبند کی سپریم پاور مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس بجٹ میں خاطر خواہ اضافے کے ساتھ اختتام پذیر۔
دیوبند: اسلامی تعلیم کے مرکزی ادارہ دارالعلوم دیوبند کی تین روزہ مجلس شوریٰ میں جہاں جمعیۃ علمائے ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی کو شوریٰ کا رکن منتخب کیا گیا ہے، وہیں اس مرتبہ  بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں آٹھ کروڑ سے زائد اضافے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میٹنگ اختتام پذیر ہو گئی۔

قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے گیسٹ ہاؤس میں پیر کے روز سے ادارے کی سپریم پاور مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس جاری تھا۔ منگل کی شام جہاں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید محمود مدنی کو متفقہ طور پر 21ویں رکن شوریٰ کے طور پر منتخب کیا گیا، وہیں بدھ کی صبح بڑھتی ہوئی مہنگائی کی سبب سے ادارے کے بجٹ میں 8 کروڑ 5 لاکھ 80 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے ماضی میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی اور ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں کیا گیا تھا، حالانکہ نئے گریڈ بندی عمل میں آئی تھی، اس کے ساتھ ہی مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے بجٹ میں خاطر خواہ اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اب ادارہ كا سالانہ بجٹ 35 کروڑ 48 لاکھ سے بڑھ کر 43 کروڑ 53 لاکھ 80 ہزار ہو گیا ہے۔ بجٹ میں اضافے کی تصدیق مالیگاؤں سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کےایم ایل اے اور رکن شوریٰ مولانا مفتی اسماعیل قاسمی نے کی ہے۔ 18 ستمبر کو دارالعلوم مدارس کے سروے کے حوالے سے منعقد ہونے والے اجلاس میں اپنا موقف واضح کرے گا جب کہ نومبر میں کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ کا جلسہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 
ادھر ذرائع کے مطابق دارالاقامہ کے ناظم مولانا منیر الدین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جلد ہی نئے ناظم دارالاقامہ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
دارالعلوم کی جانب سے پریس ریلیز جاری ہونے کے بعد دیگر فیصلے سامنے آئیں گے۔

سمیر چودھری۔