مدارس غریب مسلمانوں کی پراپرٹی، اس کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ دیوبند پہنچے مولانا بدرالدین اجمل بولے’ حکومت کی نیت پر شک ضرور ہے لیکن سروے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں‘، کہا’ کانگریس کے نہیں عظیم اتحاد کے ساتھ ہے ا ے آئی یو ڈی ایف۔
دیوبند: سمیر چودھری۔ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) کے سربراہ اور دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن مولانا بد ر الدین اجمل نے آسام حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر مدارس میں کہیں کوئی دہشت گرد پایا جاتا ہے اور اس پر الزام ثابت ہوجاتا ہے تو اس کو گولی مار دی جائے یا پھانسی دیدی جائے لیکن آپ مدارس کو ہاتھ نہیں لگا سکتے کیونکہ یہ عوام کی پراپرٹی ہے ۔انہوں نے کہاکہ غریب مسلمان اپنا پیٹ کاٹ کراور چندہ دیکر ان مدارس کو چلاتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے مجلس شوری کے اجلاس میں شرکت کرنے کی غرض سے دیوبندآئے مولانا بد ر الدین اجمل نے سمیر چودھری سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ جو لوگ دہشت پھیلاتے ہیں ان کے ساتھ حکومت کو جو کرنا ہے وہ کرے لیکن ہم اپنے مدارس کو کس قیمت پر ہاتھ نہیں لگانے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلہ میں زبردستی کی گئی تو اس کے لئے ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ضروری اقدامات کریں گے ۔مولانا بدر الدین اجمل نے کہا کہ اگر مدارس کی حفاظت کے لئے ہمیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانا پڑا تو ہم اس سے گریز نہیں کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ 2024کا پارلیمانی الیکشن آرہا ہے اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آسام کی حکومت کو بلڈوزر کا راستہ دکھا دیاہے جس پر وہ عمل کر رہی ہے ۔مولانا بدر الدین اجمل نے صاف صاف کہا کہ ہمیں آسام کے وزیر اعلیٰ سے کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ ڈی سی اور ایس ایس پی سے شکایت ہے ۔ہم ان کے خلاف لڑیں گے اور اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک کے ہم ایسی متعصبین کی ملازمتوں کو ختم نہ کرادیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سوچ وفکر رکھنے والے افسران کے خلاف ہم عدالت کے دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مدارس کا سروے کرائے جانے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا بدر الدین اجمل نے کہا کہ مدارس کے منتظمین کو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اپنی تمام دستاویزات اور تمام حسابات کو درست رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے دلوں میں کوئی چور نہیں ہے تو ہمیں سروے سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔ سروے سے متعلق دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اجلاس بلائے جانے سے متعلق مولانا بدر الدین نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا مقصد متحدہ طریقہ سے تمام مدارس کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کی جانب سے جو بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا اس پر تمام مدارس کو عمل کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جس طریقہ سے آسام اور اترپردیش میں بی جے پی کی حکومتیں مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنا رہی ہیں اس سے ہمیں حکومت کی نیت پر شک ہے کہ وہ مستقبل میں اس سروے کا غلط استعمال کرسکتی ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے متعلق مولانا بد ر الدین اجمل نے کہا کہ ہم آسام میں کانگریس کے ساتھ نہیں ہیں لیکن آل انڈیا سطح پر اگر کوئی متحدہ محاذ بنتا ہے تو ہم اس کا حصہ ضرور ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی اور نتیش کمار جیسے اپوزیشن لیڈر متحدہ محاذ کی تشکیل کرتے ہیں تو وہ کسی کو بھی اپنا لیڈر منتخب کریں اس سے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ ہم اس متحدہ محاذ کے ساتھ رہیں گے ۔ نتیش کمار کی جانب سے بی جے پی کا ساتھ چھوڑے جانے پر مولانا بدر الدین اجمل نے اس کو صحیح قدم بتایا او رکہا کہ انہیں امید ہے کہ 2024کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج 2014اور 2019سے مختلف ہونگے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ اپوزیشن اقتدار کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔