مولانا نسیم اختر تحریر و انشا ءکے میدان کے شہسوارتھے، جامعہ امام محمد انور شاہ میں مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کے انتقال پر تعزیتی جلسہ کا انعقاد۔
دیوبند:سمیر چودھری۔
صاحبِ طرز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کی وفات پر جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں تعزیتی جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت جامعہ کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے کی۔
اس موقع پرمولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے اپنے تعزیتی خطاب میں کہا کہ برادرِ گرامی مولانا نسیم اختر شاہ قیصر بھی داغِ مفارقت دے گئے۔انہوں نے کہاکہ مولانا نسیم اختر شاہ صاحب نے اپنے والد کے طرز پر تحریر و انشا ہی کو اپنی جولان گاہ بنایا اور اس میدان کے شہسوار کہلائے۔مولانا احمد خصر نے کہا کہ مرحوم کی ان کی تحریروں میں بلا کی روانی، کشش اور مزہ ہوتا تھا۔ جس سے ان کا تعلق ہوتا اس پر مضمون ضرور لکھتے، وہ شخص بھی ان کے زیرِ قلم آیا جو سادہ، گمنام اور عام زندگی گزار کر دنیا سے چلا گیا۔ وہ لکھتے نہیں تھے، مرحومین کی نبض پر حیات کا انجکشن لگاتے تھے،سینکڑوں کو ان کے قلم نے زندگءجاوید عطا کی۔مولانا احمد خضر نے کہا کہ وہ دینی، سیاسی اور شخصی موضوعات پر بھرپور لکھتے تھے مگر شخصیات پر لکھتے وقت ان کے قلم کی توانائی اور شباب بھرپور عروج پر ہوتا تھا۔ 
مولانا مرحوم کی ایک خوبی ان کے تعلقات میں تنوع تھا۔ ہر گوشہحیات کے لوگوں سے ان کی رسم و راہ تھی۔ ان کے حلقہ احباب میں صرف اہلِ علم اور اربابِ قرطاس ہی نہیں تھے۔ صحافی، ڈاکٹر، انجینئر، سبزی فروش اور رکشہ چالکوں تک سے تھے۔ ان میں سے جس سے بھی اور جہاں کہیں بھی ملاقات ہوتی خیر خیریت ضرور لیتے۔ میرے گھر ہر پندرہ دن میں کم از کم ایک بار ضرور آتے اور مختلف موضوعات پر گفتگو کر کے ہماری دل بستگی کرتے۔ مولانا احمد نے کہاکہ جامعہ سے ان کا لگا یومِ تاسیس ہی سے تھا۔ اس کے ہر پروگرام میں ان کی شرکت لازمی تھی۔ ان کی موجودگی گرمءمجلس کا سبب بنتی۔ وہ حاضر جوابی اور خوش مزاجی میں بھی قابلِ رشک تھے۔ کشادہ دستی میں بھی وہ بہتوں سے آگے بڑھ چکے تھے۔ کسی نے ضرورت پیش کی تو ایسا بھی ہوا کہ دوسروں سے قرض لے لے کر اس کی مشکل کشائی کی۔مولانا مرحوم اس کے مصداق تھے۔ سادگی سے بھرپور اور تصنع سے پاک زندگی گزاری۔ مولانا کشمیری نے مزید کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ اب زمین پر چلتے پھرتے نہیں ملیں گے مگر ان کی یادیں دل میں ہمیشہ رہیں گی۔ ان کی رحلت صرف دارالعلوم وقف اور جامعہ امام محمد انور شاہ کا نقصان نہیں، بلکہ دیوبند کا نقصان ہے۔ ان کے جیسا صاحبِ قلم اب کہیں نظر نہیں آتا۔ وہ کلمہ پڑھتے ہوئے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے جس سے امید ہے کہ آخرت کے تمام مراحل ان شاءاللہ بآسانی طے کر لیں گے۔
جامعہ کے استاذِ حدیث و نائب ناظمِ تعلیمات مولانا سید فضیل احمد ناصری نے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ زندگی بھر لوگوں کو گدگداتے اور ان کا غم دور کرتے رہے، مگر اس طرح گئے کہ چاہنے والوں کی آنکھیں اب بھی نمناک ہیں۔ وہ اپنے علم، اپنے قلم، اپنی ظرافت، اپنی حاضر جوابی، اپنی بلند اخلاقی، اپنی عالی ظرفی کے سبب ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ 
جامعہ کے صدر المدرسین مولانا مفتی وصی احمد قاسمی بستوی نے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ صاحب خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ وہ کامیاب اور مقبول مدرس بھی تھے، مگر ان کا اصل میدان مضمون نگاری تھی۔ فراغت کے بعد سے ہی درس و تدریس اور مضمون نویسی سے لگ گئے اور زندگی کے کسی موڑ پر کبھی سست نہیں ہوئے، بلکہ آخر تک مسلسل سرگرمِ عمل رہے۔ یہ اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ مفتی نثار خالد دیناجپوری کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر جامعہ کے تمام اساتذہ و کارکنان موجود رہے۔ اجلاس سے پہلے طلبہ اور اساتذہ نے قرآن خوانی بھی کی۔