یوپی میں مدارس کے بعد اب وقف املاک کا سروے، یوگی حکومت کی افسروں کو ایک ماہ کے اندر کام مکمل کرنے کی ہدایت۔
لکھنو: ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب یوپی حکومت میں وزیر برائے اقلیتی فلاح، مسلم وقف و حج دانش آزاد انصاری نے وقف بورڈ کی ملکیتوں کا سروے کرائے جانے سے متعلق بات کہی تھی۔ جب یوپی حکومت کی طرف سے مدارس کا سروے کرائے جانے کا حکم صادر ہوا تو اس کی گہما گہمی میں وقف بورڈ کی ملکیتوں سے متعلق سروے کی بات کچھ دَب سی گئی۔ لیکن اب اس سلسلے میں یوگی حکومت کی طرف سے باضابطہ حکم جاری کر دیا گیا ہے اور ایک ماہ کے اندر سروے کا کام مکمل کرنے کی ہدایت افسران کو دے دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کے ڈپٹی سکریٹری شکیل احمد صدیقی نے ضلع کے سبھی کمشنر اور ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر اس سلسلے میں اہم ہدایات دی ہیں۔ خط میں انھوں نے کہا ہے کہ وقف ایکٹ ۱۹۹۵اور یوپی مسلم وقف ایکٹ ۱۹۶۰میں وقف کی ملکیت کو رجسٹریشن کرانے کی سہولت کے باوجود اصول و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ وقف ملکیتوں کو منظم طریقے سے ‘ریونیو ریکارڈس میں درج کرانے کے لیے ۷اپریل ۱۹۸۹کو حکومت کے ذریعہ حکم بھی جاری کیا گیا۔ اس میں درج ہے کہ ۱۹۸۹کے حکومتی احکام کے تحت پایا گیا کہ وقف کی ملکیتیں بیشتر بنجر، اوسر اور بھاٹی میں درج ہیں، لیکن موقع پر وقف ہے۔ اس لیے ان اراضی کو صحیح طریقے سے ریونیو ریکارڈ میں درج کرانے اور ان کی نشاندہی کرانے کی ضرورت ہے۔دراصل یوگی حکومت نے مدارس کے بعد اب وقف بورڈ کی ملکیتوں سے متعلق پوری تفصیل جاننا چاہتی ہے۔ اس کے لیے حکومت نے ریونیو محکمہ کے ذریعہ جاری ۱۹۸۹کے احکامات کو بھی منسوخ کرتے ہوئے جانچ ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت سبھی اضلاع کے ذمہ داران کو دے دی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو مدارس اور وقف بورڈ کی ملکیتوں کی سروے رپورٹ حکومت کے پاس اکتوبر کے آخر تک پہنچ جائے گی۔بہرحال، حکومت کے ڈپٹی سکریٹری شکیل احمد صدیقی کے ذریعہ جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ گرام سبھاؤں اور بلدیوں کی زمین پبلک پراپرٹیز ہیں، جن کا عوامی مفاد میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان زمینوں کا۱۹۸۹کے حکومتی احکام کی بنیاد پر مینجمنٹ اور شکل بدلنا ریونیو قوانین کے خلاف ہے۔ غیر وقف ملکیتوں کو وقف ملکیت میں درج کرنے کی بے ضابطگیوں کے سبب گزشتہ ۸؍ اگست کو ۱۹۸۹والا محکمہ ریونیو کا حکم بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ۱۹۸۹کے بعد سے ریونیو ریکارڈس میں درج وقف ملکیتوں کو اصول کے مطابق درست کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں وقف بورڈ کے پاس اراضی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فوج اور ریلوے کے بعد سب سے زیادہ زمین وقف بورڈ کے پاس ہی ہے۔ یعنی وقف بورڈ ملک کا تیسرا زمین کا سب سے بڑا مالک ہے۔ وقف مینجمنٹ سسٹم آف انڈیا کے مطابق ملک کے سبھی وقف بورڈوں کے پاس مجموعی طور پر ۸؍لاکھ ۵۴ہزار ۵۰۹ملکیتیں ہیں، جو ۸لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی پر پھیلی ہوئی ہیں۔