جوہر یونیورسٹی کیمپس میں یوگی کا بلڈوزر، بلدیہ کی کروڑوں کی صفائی مشین اور مدرسہ عالیہ کی ہزاروں چوری شدہ کتابوں کی برآمدگی کا دعویٰ، اعظم خان اور عبداللہ اعظم سمیت سات کے خلاف مقدمہ درج۔
رامپور: (صدام حسین فیضی) سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خاں کی مشکلیں تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ایسے میں پیر کو ایک تازہ معاملہ سامنے آیا ہے جہاں اعظم خاں کی جوہر یونیورسٹی کے اندر رام پور ضلع انتظامیہ نے بلڈوزر سے کھدائی شروع کردی۔ کھدائی کے بعد وہاں سے نگر پالیکا رام پور کی صفائی کرنے والی مشین برآمد کی گئی ہے جس سے پوری یونیورسٹی میں ہڑکمپ مچ گیا، وہیں پولس نے اس معاملے میں اعظم خاں، عبداللہ اعظم سمیت سات لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تفصیل کے مطابق۱۶جولائی کو قماربازی ایکٹ میں مقدمہ درج کیا گیا جس میںتین لوگ سالم، انوار اورثاقب تب سے ہی فرارچل رہے تھے۔باقرخاں نے تحریردی تھی کہ بلدیہ میں صفائی کے لئے مہنگی مشینیں خریدی گئی تھیں۔ شہرچیرمین کی ملی بھگت سے اعظم خان ان کے بیٹے عبداللہ اعظم اور اس کے دوستوں کے ساتھ مل کر جوہر یونیورسٹی میں مشینیں پہنچائی گئیںتھیں ۔جب حکومت بدلی تو انہوں نے اس مشین کو کاٹ کر زمین میںدفنادیاتھا۔اس پر مقدمہ بھی لکھا گیاتھاجب سالم اور انوار سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ یہ یونیورسٹی میں ہی ہے اور ہم چل کر بتا سکتے ہیں کہ کہاں ہے یہ مشینیںبہت ہی قیمتی ہیں۔اس دوران مدرسہ عالیہ کے پرنسپل سے بات چیت کی گئی توانہوںنے بتایا کہ جن پر الزام ہے ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی کہ مدرسہ عالیہ کی کتابیں کہاں ہیں؟انہوں نے بتایا کہ ستمبر۲۰۱۶ میں مدرسہ عالیہ اورینٹل کالج کے مدرسے سے ۱۰ہزار ۶۳۳کتابیں چوری ہوئیںہیں۔ اس سلسلے میں ۲۰۱۹میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں سات ملزمان جیل گئے اور ۲۵سو کتابیں برآمد ہوئیںتھیںباقی جو چھ سے سات ہزار کتابیں ہیںانہیں کہیں دفن کیا گیا یہ جوہر یونیورسٹی کے کیمپس میں ہوا ہے اور اگر ملزمان انوار اور سالم سے پوچھ گچھ کریں تو وہ بتا سکتے ہیں کہ بقیہ کتابیںکہاںہیں؟معلومات کے بعد بتایاکہ یونیورسٹی میں کتابیں دفن ہیں۔جوہریونیورسٹی کے لفٹ کا کمرہ کے نیچے سے ان تمام کتابوںکو برآمدکیاگیاہے۔ خبرلکھے جانے تک ری کوری کا کام جاری ہے اور اس میں وقت لگے گا کیونکہ وہاں ہزاروں کتابیں موجود ہیںاورلے جانے والوں کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولس نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سماجوادی پارٹی رہنما اعظم خان کے ایم ایل اے بیٹے عبداللہ اعظم کے انتہائی قریبی دوست انور اور سلیم کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ اس معاملے میں پولس نے تقریباً تین دن پہلے دونوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ کے دوران کئی سنگین معاملات سامنے آئے جس کے تحت گزشتہ روز جوہر یونیورسٹی میں جے سی بی سے بلدیہ کی ایک صفائی مشین برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو بھی ایکشن لیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ ریمانڈ پر لیے گئے دونوں ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے یونیورسٹی کیمپس کی عمارت میں بنائے گئے لفٹ کمپارٹمنٹ میں چھپائی گئی مبینہ چوری شدہ قیمتی کتابیں برآمد کی گئی۔ عالیہ کے پرنسپل زبیر احمد کے مطابق یہ کتابیں مدرسہ عالیہ کی ہیں۔ یہ مدرسہ رام پور کے نواب نے ۱۷۷۴میں قائم کیا تھا۔ اسے گورنمنٹ اورینٹل کالج بھی کہا جاتا تھا۔ یہ کتابیں سال ۲۰۱۶میں اس کی لائبریری سے چوری ہوئی تھیں۔ اس معاملے میں سال ۲۰۱۹میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۱۶میں اورینٹل کالج کو اس وقت کے ریاستی وزیر، اعظم خان نے اپنے ٹرسٹ کی نگرانی میں لے لیا تھا۔ کل پی سی آر کے لئے آج واپس اپلائی کیا جا رہا ہے کیونکہ اور بھی بہت کچھ ہے ،کچھ انکوائری زیر التواء ہے کیونکہ ان کا فرنیچر بتایا گیا تھااور مدرسہ عالیہ کا بہت سا سامان غائب تھا اس لئے دوبارہ پی سی آر کے لئے درخواست دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جو اس میں ملوث تھے کیونکہ انتظامیہ میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ کتابیں کس کی مدد سے چوری کی گئیں۔ یہاں دبانے کے بعد اس لئے ۱۵گھنٹے کا ریمانڈ لیاگیاتھا۔اب آج دوبارہ تھانہ گنج کے لئے ۸گھنٹے کاریمانڈمنظورہوگیاہے۔ ایڈیشنل ایس پی نے بتایاکہ کچھ لوگوںکاویڈیو جواکھیلتے ہوئے برآمدہواتھاجس کی جانچ کے دوران پولیس نے انوار اور سالم کو گرفتارکیاتھا۔جنہوںنے پوچھ گچھ کے دوران بڑے معاملوںکاخلاصہ کیاہے۔ انہوںنے بتایاتھاکہ جوہریونیورسٹی کی زمین کے نیچے نگرپالیکاپریشدکی صفائی مشینںاور مدرسہ عالیہ کی بیش قیمت کتابوںکاذخیرہ بھی موجودہے۔