غازی آباد میں امام مسجد اور مسلم نوجوان کی پٹائی، دو ہندوئوں نے پاکستانی کہہ کر خوب مارا، مذہب مخالف نعرے بھی لگوائے۔
غازی آباد: اترپردیش کے غازی آباد میں دو مسلم نوجوانوں کی پٹائی کا ویڈیو منظر عام پر آیا ہے اس میں ایک مسجد کے امام اور دوسرا پھیری والا ہے۔ دو ہندو نوجوانوں نے انہیں روک کر پاکستانی اور بم دھماکوں کی سازش کرنے والا کہہ کر خوب مارا پیٹا جنہیں آس پاس کے لوگوں نے بچایا۔ ملزمین کے نام سچن اور سنی ہیں۔ پولس نے ان پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا کیس درج کرکے گرفتار کرلیا ہے۔ واقعہ مودی نگر کے سوندا علاقے میں جمعرات کو پیش آیا۔ ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ دو نوجوان اسکوٹی پر ہیں پہلے وہ مسجد کے امام کو روکتے ہیں، انہیں پاکستانی کہہ کر ماتے ہیں، پھر تھوڑی دیر بعد ایک پھیری والا آتا ہے دونوں اس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ بم دھماکہ کی سازش میں شامل ہے اس کے بعد دونوں اس کے ساتھ بھی مارپیٹ کرتے ہیں۔ سنجے پوری مسجد کے امام اسجد نے بتااکہ یکم ستمبر کی شام ساڑھے پانچ ب جے میں عصر کی نماز پڑھا کر بدانہ سونداشاہراہ پر ٹہل رہا تھا،جبھی دو نوجوان نوں گوشالہ کے پاس مجھے روک لیا مجھ سے بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام کے نعرے لگانے کو کہا اوریہ بھی کہاکہ اگر ایسا نہیں کروگے تو مار کر کھیت میں پھینک دوں گا میں ڈر گیا جیسے تیسے چھپ کر گنے کے کھیت میں جاکر چھپ گیا او رمسجد کے متولی فرقان کو فون کرکے پورا واقعہ بتایا۔ یوپی ۱۱۲ پہر بھی اطلاع دی، متولی کئی لوگوں کو لے کر وہاں آئے تب میں کھیت سے باہر آیا۔ پھیری والے صداقت نے بتایا کہ یکم ستمبر کو میں کپڑا بیچ کر لوٹ رہا تھا اس دوران بدانا سوندا مارگ پر کافی بھیڑ جمع تھی میں بھی رک گیا، میں نے پوچھا کیا ہوگیا؟ تبھی دو نوجوان مجھے روک لیا، مجھے پاکستانی بتایا اور مجھ پر کسی بم دھماکے کی سازش میں شامل ہونے کا الزام لگایا، مجھ سے بھی جے شری رام، جے بھولے کی جیسے مذہبی نعرے لگانے کو کہا ایسا نہ کرنے پر میری پٹائی کردی میں میں نے مدد کےلیے آواز دیا پھر کچھ لوگوں نے مجھے آکر بچایا۔ جمعرات کی شب ۹ بج کر ۳۰ منٹ پر مسلمانو ںنے مودی نگر تھانہ پہنچ کر مارپیٹ کرنے والو ںکے خلاف سنگین دفعات میں معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جس پر تھانہ انچارج یوگیندر سنگھ نے ہنگامہ کررہے لوگوں کو کارروائی کی یقین دہانی کرائی، مودی نگر تھانہ کے سی او سنیل کمار نے بتایاکہ اس معاملے میں سنجے پوری مسجد کے امام اور صداقت نے سچن اور سنی کے خلاف معاملہ درج کرایا ہے، دونوں پاس کے ہی گائوں کے رہنے والے ہیں، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، مارپیٹ ، دھمکی دینے ، گالی گلوج کرنے کی دفعات لگا کر ملزمین کو گرفتا رکرکے جیل بھیج دیاگیا ہے۔