مسلمان۔ مندروں کے آس پاس کی مساجد ہٹا لیں, یوپی کے وزیر نشاد کا ‘مشورہ’۔
نئی دہلی: اترپردیش کے ماہی پروری کے وزیر سنجے نشاد نے کہا ہے کہ مندروں کے قریب واقع تمام مساجد کو رضا کارانہ طور پر ہٹا لیا جانا چاہیے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، انہوں نے کہا، ‘جہاں بھی مندر ہیں، اور وہیں مسجد بنی ہوئی ہے… ساری مسجدوں کو میں ان لوگوں سے کہنا چاہوں گا آپ جس طرح رام مندر سے ہٹ گئے ہیں اور رام مندر آرام سے بن رہا ہے اور مسجد الگ سے بن رہی ہے، ویسے ہی ہر مندر کے قریب سے مسجد ہٹ جانا چاہیے… وہ دوسرے ہندوستان کی ثقافت تھی، اگر وہ مذہبی عبادت کرنا چاہتے ہیں تو کہیں بھی (مسجد ) بنا کر کر سکتےنشاد کا بیان گیان واپی کیس میں وارانسی کی ایک ضلع عدالت کے فیصلے کے بعد آیانشاد پارٹی کے سربراہ نے مدارس کو بھی نشانہ بنایا۔ ریاست میں مدارس کے سروے پر نشاد نے کہا کہ دہشت گردی کے ساتھ مدارس کا تعلق سامنے آچکا ہے اور کئی بار مدارس سے دہشت گرد بھی پکڑے گئے ہیں، اس لیے مسلم مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مدارس پر لگے داغ کو دھونے کے لیے سروے کی حمایت کریں نشاد نے یہ بھی الزام لگایا کہ اپوزیشن مولاناؤں کے ساتھ مل کر مذہبی جنون پھیلاتی تھی، فسادات کرواتی تھی، لیکن جب سے ریاست میں یوگی حکومت اور مرکز میں (نریندر) مودی کی حکومت ہے، تب سے فسادات پر قابو پا لیا گیا ہے