شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
نئی دہلی/سمر قند: ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق پیرس ماحولیاتی معاہدہ مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ نافذالعمل ہوناچاہیے۔
اجلاس میں رکن ممالک نے باہمی معاملات میں مقامی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے روڈمیپ کی منظوری دی جبکہ گرین ہاؤس گیس اخراج میں کمی کیلئے ایک دوسرے کی مدد پر اتفاق کیا۔ 
اعلامیہ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا توانائی کے شعبے کا انفرااسٹرکچر بہتر بنانے پر اتفاق کیا اور گلوبل انرجی کی نگرانی کا شفاف نظام بنانےکا مطالبہ کیا۔
اعلامیہ میں تجارت اورسرمایہ کاری محدود کرنے کیلئے موسمیاتی ایجنڈے کا استعمال ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے زبردستی کے اقدامات تعاون کونقصان پہنچاتے ہیں، زبردستی کے اقدامات موسمیاتی چینلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو کمزورکرتے ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، رکن ممالک گرین ہاؤس گیس اخراج میں کمی اور ترقی میں توازن کی وکالت کرتے ہیں، پیرس معاہدےکے مکمل اورمؤثرعملدرآمدکیلئے کام کرنے پر تیارہیں۔