یوپی: اسپتالوں میں اردوسائن بورڈ لگانے پر مسلم افسر تبسم خان معطل۔
لکھنو: (ایجنسی) اتر پردیش حکومت نے محکمہ صحت کے
جوائنٹ ڈائریکٹر تبسم خان کو معطل کر دیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے پرائمری طبی مراکز پر اردو میں سائن بورڈ لکھنے کا مبینہ حکم نامہ جاری کیا تھا۔ الزام ہے کہ انہوں نے یکم ستمبر کوتمام چیف میڈیکل آفیسر کواس بات کی یقین دہانی کرانے کی ہدایت دی تھی کہ ریاست کے تمام اضلاع کے پرائمری طبی مراکز پراردو میں نام لکھے جائیں گے، ساتھ ہی ڈاکٹرز اور ملازمین کے عہدے اور نام کو ہندی کے ساتھ اردو میں لکھا جاۓ گا۔ 
محکمہ صحت کے ایک سینئر افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ بتایا جار ہا ہے کہ جوائنٹ ڈائر یکٹر تبسم خان کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بغیر سینئر افسر کے صلاح ومشورہ کے مبینہ حکم نامہ جاری کیا تھا۔ الزام ہے کہ حکم نامہ میں کہا گیا تھا کہ ریاست کے سبھی چیف میڈیکل آفیسر پرائمری ہیلتھ سینٹر کے باہر اردو سائن بورڈ لگانے کو یقین دہانی کرائیں اور اسی بنیاد پر جوائنٹ ڈائر یکٹر کو معطل کر دیا گیا۔ تبسم خان کا کہنا ہے کہ اناو ضلع کی رہنے والے ہارون کی شکایت پر یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اردور یاست کی دوسری سرکاری زبان ہے لہذا اس زبان میں بھی اسپتالوں کے نام لکھے جائیں۔
واضح رہے که گزشتہ روز اتر پردیش پرائمری طبی مراکز کے ڈائریکٹر نے ایک سرکلر میں کہا ہے کہ ریاست کے بھی پرائمری طبی مراکز کی عمارتوں، ڈاکٹرز، افسران اور ملازمین کے نام ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو میں لکھنے کویقینی بنائیں۔