کرناٹک میں بین مذہبی جوڑے نےشادی کرلی، ’لوجہاد‘ کا الزام مسترد، بجرنگ دل والوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
بنگلورو:  ایک بین مذہبی جوڑے نے جسے چہارشنبہ کے روز کرناٹک کے چکمگلورو کے سب رجسٹرار کے دفتر میں شادی کرنے سے بجرنگ دل کے ارکان نے زبردستی روک دیا تھا۔انہوں نے لو جہاد کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لوگ محبت کی خاطر شادی کررہے تھے اور مذہب تبدیل کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ آخرکار ان کی شادی جمعہ کے دن رجسٹر کی گئی تھی۔بجرنگ دل کے ارکان نے چہارشنبہ کے روز جعفر اور چھیترا کی شادی کا رجسٹریشن روک دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ لو جہاد کا کیس ہے؟ گڑبڑ کے دوران جوڑے کی حفاظت کو یقینی بنانے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی تھی؟24 سالہ جعفر نے جو ڈرائیور کا کام کرتا ہے اور اپنے والد کی، کاروبار میں مدد کرتا ہے، بتایا کہ وہ اور چھیترا پڑوسی ہیں اور بچپن سے ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور تین سال پہلے ہمارے درمیان محبت شروع ہوئی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ چھیترا مذہب تبدیل کرنے والی ہے۔ ہم ساتھ رہنا اور اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کو یہ توقع نہیں تھی کہ اس دن ہم پر حملہ کیا جائے گا۔ ہماری شادی سے دونوں خاندان خوش تھے۔ اب شادی کا رجسٹریشن ہوچکا ہے۔موجودہ حالات میں ہم نہیں جانتے کہ شادی کی تقریب کہاں منعقد کریں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کہاں بلائیں۔ چھیترا نے جس کا تعلق درجِ فہرست ذات سے ہے، کہا کہ بجرنگ دل کے ارکان نے ذات پات کامسئلہ اٹھایا تھا۔ ہمیں حکم دینے والے وہ کون ہوتے ہیں۔ہم ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور ہم کماتے بھی ہیں۔ ہم سے سوال کرنے والے اور ہمیں یہ بتانے والے وہ لوگ کون ہوتے ہیں کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ ان لوگوں نے جعفر پر حملہ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا تم درجِ فہرست ذات کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ وہ لوگ یہ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں۔ کیا ایس سی لڑکیاں اپنی مرضی کے مطابق شادی نہیں کرسکتی ہیں؟