گیان واپی کیس میں ہندو فریق سپریم کورٹ پہنچا، عدالت جلد سماعت کے لیے تیار۔
نئی دہلی: وارانسی کے گیانواپی معاملے میں ہندو فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پیر کو ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے سپریم کورٹ سے معاملے کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔پیر کو ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے گیانواپی کیس میں سپریم کورٹ سے جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود گیانواپی کے سروے کے دوران پائے گئے مبینہ شیولنگ کو محفوظ رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم 12 نومبر تک نافذ رہے گا۔ ہندو فریق کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے اس معاملے کی سماعت کی جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت 12 نومبر سے پہلے ہو گی۔دراصل، گیانواپی کمپلیکس میں مبینہ شیولنگ علاقے کو محفوظ رکھنے کا سپریم کورٹ کا حکم 12 نومبر تک نافذ رہے گا۔ اس کے پیش نظر ہندو فریق نے اس معاملے میں راحت مانگتے ہوئے سپریم کورٹ سے سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔