گجرات حادثہ: جان بچانے والے مسلمان فرشتے : سمیع اللہ خان۔
حسین پٹھان اور محمد توفیق۔ ان دونوں نے گجرات کے موربی بریج حادثے میں تقریباﹰ ۸۰ سے ۹۰ انسانوں کی جانیں بچائی ہیں، ان مسلمانوں نے اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کی جان بچاتے وقت ان کا مذہب نہیں پوچھا جبکہ بیشتر اُنہی میں سے تھے جن کے ہم مذہبوں نے مسلمانوں کو اس ملک سے نکالنے، انہیں مٹانے اور ان کی عزت و آبرو لوٹنے کا حلف اٹھایا ہوا ہے، کیونکہ ہمارا اسلام مظلوموں، مجبوروں، کمزوروں اور مصیبت میں پھنسے ضرورت مند انسانوں کی صرف مدد کرنے کی تعلیم دیتاہے ان کا مذہب، نسل یا وطن پوچھنے کی متعصبانہ منافرت ہمارے دین میں نہیں ہے، جوکہ ہندوتوا کا منحوس حصہ ہے، گرچہ آپ لوگ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتے رہیں پھر بھی جب تک دینِ اسلام کے مان لیوا اس آسمان کے نیچے موجود ہیں آپ سب یقین رکھیے کہ  اس زمین پر عدل و انصاف اور انسانیت کا بول بالا قائم رہےگا اور ایسے پیارے نظارے آپکے دلوں کو بار بار ٹھنڈا کرتے رہیں گے، ہم کو جب کبھی اس ملک میں دوبارہ اقتدار ملےگا ہم مسلمانوں برہمنوں، دلتوں، بودھوں، راجپوتوں، آدی واسیوں سمیت سنگھیوں کےساتھ بھی " انصاف " اور " انسانی محبت " کا ہی برتاؤ کریں گے، ہم کسی پر اس لیے بھی ظلم نہیں کریں گے کہ وہ آر۔ایس۔ایس کا کارکن ہے ہم اس کے ساتھ بھی انصاف و شرافت سے پیش آئیں گے کیونکہ یہی ہمارے نظریۂ توحید کی شان ہے، ہمارے خمیر میں انصاف و شرافت اور ہماری رگوں میں محبت و انسانیت ہے جو ہمیں ایمان سے ملی ہے، ہم اس دنیا میں عدل و انصاف اور انسانی آزادی کے ضامن ہیں، ہمارا دور پھر آئےگا اور آپ سب اس کا براہ راست نظارہ کریں گے، کچھ کنکھیوں سے تاکتے ہوں گے تو کچھ دانتوں تلے کاٹتے ہوں گے تو بہت سارے دل پرسکون ہوں گے_

 سلامی ہو توفیق اور پٹھان کی عظمت و جرات اور جذبہء انسانیت کو __۔
✍: سمیع اللہ خان