میرے بیٹے کے قتل کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے، پلٹزر انعام یافتہ دانش صدیقی کے والدین نئے ثبوت کے ساتھ بین الاقوامی عدالت سے رجوع۔
نئی دہلی: طالبان کے ہاتھوں ہلاک روئٹر کے فوٹوجرنلسٹ دانش صدیقی کو ہندوستان میں کووِڈ بحران کے دوران روایت شکن فیچر فوٹوگرافی کے لئے دوسرا پلٹزر پرائز بعدازمرگ دیا گیا۔دانش صدیقی کے والدین پروفیسر اختر صدیقی اور شاہدہ اختر نے بین الاقوامی عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکوٹر کو اپنی شکایت مورخہ 22 مارچ 2022 کے سلسلہ میں مزید ثبوت سونپا ہے۔انہوں نے اپنے لڑکے کی ہلاکت کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ ثبوت‘ حلف ناموں‘ پوسٹ مارٹم کے تعلق سے طبی رائے‘ طالبان ارکان کے درمیان مبینہ واٹس اَپ چیاٹ کی کاپی پر مشتمل ہے۔برطانوی نیوز ایجنسی رائٹر سے جڑے دانش صدیقی‘ افغان صوبہ اسپن بولدک میں افغان اسپیشل فورسس کے ساتھ کوریج کے لئے موجود تھے کہ طالبان کے حملہ میں زخمی ہوگئے تھے۔انہیں علاج کے لئے ایک مسجد لے جایا گیا جو عرصہ سے پناہ گاہ بنی ہوئی تھی۔ طالبان نے اس مسجد پر حملہ کردیا اور دانش صدیقی کو پکڑکر زدوکوب کیا اور مارڈالا۔خبر ہے کہ طالبان کے ریڈ یونٹ نے ان پر حملہ کیا تھا۔ ہلاکت کے بعد نعش پر لوگوں کے سامنے بڑی گاڑی چڑھادی گئی تھی۔ نعش پر ٹارچر اور 12 گولیوں کے نشانات پائے گئے۔یہ نشانات طالبان کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد کے ہیں کیونکہ دانش صدیقی کی بلیٹ پروف جیاکٹ پر گولی لگنے کا ایک بھی نشان نہیں۔