موربی حادثے میں بی جے پے رکن پارلیمنٹ کے ۱۲‘رشتہ دار ہلاک۔
احمدآباد: گجرات کے موربی میں کیبل برج (پُل) گرنے والے حادثے میں اب تک ۱۴۱ افراد کی موت ہوئی ہے۔ ان ہلاک شدگان میں راجکوٹ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ موہن بھائی کُنداریا کے پرسنل اسسٹنٹ نے کہا کہ موہن بھائی کنداریا کی بہن کے خاندان کے ۱۲ افراد موربی پُل گرنے کے واقعے میں ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔موہن بھائی کنداریا نے خود حادثے کے بعد موربی میں جائے وقوع کا دورہ کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ 'یہ بہت افسوسناک ہے۔ پانی کو نکالنے کے لیے مشینری موقع پر موجود ہے تاکہ ہم نیچے سے لاشوں کا پتہ لگا سکیں کیونکہ وہاں بہت کیچڑ(دلدل) ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پل پر زیادہ بوجھ پڑ گیا اور اس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ بہت سی ٹیمیں راحت رسانی کے کام میں مصروف ہیں۔واقعہ کے بعد وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل، وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش بھائی سنگھوی، وزیر برجیش بھائی میرجا، اور ریاستی وزیر اروند بھائی ریانی آدھی رات کو جائے حادثہ پر پہنچے اور بچاؤ آپریشن کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا اور ہدایات دیں۔تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حادثے کے بعد فوری طور پر سسٹم کو فعال کر دیا گیا اور مقامی لوگوں کی مدد سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ دیگر مقامات سے بھی ٹیمیں موقع پر پہنچنا شروع ہوگئیں۔ مختلف صحت مراکز، راجکوٹ PDU ہسپتال اور سریندر نگر سول ہسپتال کے تقریباً 40 ڈاکٹروں نے موربی سول ہسپتال میں زخمیوں کا ہنگامی علاج شروع کیا۔ پل گرنے کے بعد راجکوٹ میونسپل کارپوریشن کی کشتی اور لائف جیکٹس سمیت امدادی سامان موربی پہنچ گیا اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ راجکوٹ، جام نگر، جوناگڑھ میٹروپولیٹن میونسپلٹی اور موربی میونسپلٹی کی ایمرجنسی ایمبولینسیں زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچانے کے لیے رات بھر دوڑتی رہیں۔ ریسکیو آپریشن میں کئی پرائیویٹ ایمبولینسیں بھی شامل تھیں۔ سریندر نگر سے فوج کی ٹیم اپنی تین ایمبولینسوں اور آلات کے ساتھ شامل ہوئی، حکام نے بتایا۔