گروگرام میں شرپسندوں کا مسجد پر حملہ، احاطے میں توڑ پھوڑ، نمازیوں سےمارپیٹ، حملہ آور گیٹ بند کرکے فرار، ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کر انتظامیہ کا سخت کارروائی کا انتباہ۔
گروگرام: دہلی سے متصل گروگرام کے سائبر سٹی علاقے میں بھوڑکلاں کے کچھ شرپسندوں نے مسجد پر حملہ کردیا ہے، اس دوران مسجد میں عشا کی نماز جاری تھی، بتایاجارہا ہے کہ شرپسندوں نے ہی نمازیوں کے ساتھ مارپیٹ بھی کی اور مسجد میں توڑ پھوڑ کرکے نقصان پہنچانے کے بعد حملہ آور مسجدکا گیٹ بند کرکے فرار ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ مسجد میں توڑ پھوڑ اور مصلیوں کو مارنے کے بعد باہرموجود خواتین پر بھی بھگوا دھاریوں نے حملہ کردیا جس میں پانچ خواتین زخمی ہوگئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ لوگ لاٹھی ڈنڈوں اور اسلحوں سے مسلح تھے۔ پولس نے نمازیوں کی شکایت پر درجنوں افراد کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ بھوڑکلاں کے رہنے والے تقریباً ۲۰۰ شرپسندوں نے بدھ کی شام مسجد کو گھیر لیا، اس کے بعد راجیش چوہان، انل بھدوریہ، سنجے ویاس اور دیگر لوگوں نے مسجد کے اندر گھس کر نماز پڑھ رہے مصلیوں کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ اس کے بعد نمازیوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر مسجد میں باہر سے تالا لگا کر فرار ہوگئے۔ متاثرہ صوبیدار نذر محمد کی شکایت پر بلاسپور پولس تھانے میں گائوں کے درجنوں افراد کے خلاف معاملہ درج کیاگیا ہے۔ مصلیوں کا کہنا ہے کہ بھوڑکلاں علاقے میں چار مسلم خاندان رہتے ہیں اس لیے کچھ شرپسندوں نے مذہبی جذبات بھڑکانے کےلیے سازش رچی ہے، مسجد میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد باہر سے تالا لگا دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ شام کو جب کچھ لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے تبھی کچھ بدمعاش اندر گھس آئے، اور مارپیٹ شرو ع کردی، انہوں نےیہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مسلمانوں کو علاقہ چھوڑ دینے کی بھی دھمکی دی گئی ہے، پولس نے آئی پی سی کی دفعہ ۲۹۵اے، ۳۲۳، ۵۰۶، ۱۴۷ اور ۱۴۸ کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔ پولس نے راجیش چوہان، انل بھدوریہ، سنجے ویاس نام کے تین ملزمین کی شناخت بھی کی ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے، جانچ میں جو بھی مجرم ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔