مندروں میں ’دیوداسی‘ نظام پر ہیومن رائٹس برہم، مرکز اور چھ ریاستوں کونوٹس، چھ ہفتوں میں رپورٹ طلب۔
نئی دہلی: نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے مختلف منادر بالخصوص ہندوستان کے جنوبی حصوں میں دیوداسی نظام پر میڈیارپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے طور پرکاروائی کی ہے۔سکریٹریز مرکزی وزرات برائے بہبود خواتین و اطفال سماجی انصاف اور ایمپاور منٹ چیف سکریٹریز حکومت کرناٹک،کیرالا،تاملناڈو،آندھر ا پردیش،تلنگانہ اور مہارشٹرا کوکمیشن نے نوٹس ارسال کرتے ہوئے انہیں چھ ہفتوں سے کم وقت کے اندر جلد سے جلد اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔مذکورہ رپورٹ میں دیوداسی نظام کو روکنے اور دیو داسیوں کی بحالی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکام کی طرف سے اٹھائے جانے والے یااٹھائے گئے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے معاون ڈیٹاہونا چاہئے تاکہ وہ عزت نفس کی زندگی گذار سکیں۔رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ ہونا چاہئے کہ آیا ریاستوں میں قسم کی برائیوں کو روکنے کے لئے کوئی قانون بنایاگیاہے اوراگر نہیں اس قسم کے قوانین کو ختم کرنے کے لئے کس قسم کی تجاویز پیش کئے گئے ہیں۔نوٹس جاری کرتے ہوئے کمیشن نے ایک چند سال قبل مشاہدہ کیاتھا کہ انہیں تاملناڈو او رآندھرا پردیش ریاستوں میں دیو داسی کی بدعملی کے متعلق ایک شکایت موصول ہوئی تھی۔ اس نوٹس کے جواب میں مذکورہ ریاست کے منتظمین نے ان الزامات سے انکار کیاتھا۔بتایاجارہا ہے کہ کرناٹک او رآندھرا پردیش حکومتوں نے 1982اور1988میں بالترتیب دیوداسی کی رسم کو غیرقانونی قراردیاہے۔تاہم بتایایہ بھی جارہا ہے کہ کرناٹک میں واحد 70000سے زائد عورتیں دیو داسی کی زندگی گذار رہی ہیں۔جسٹس راگھو ناتھ راؤ کی قیادت میں ایک کمیشن قائم کیاتھا جس نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ او رآندھرا پردیش میں 80000دیوداسیاں ہیں۔این ایچ آر سی نے کہاکہ کیونکہ نیوز رپورٹس اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دیوداسی نظام کو روکنے کے لئے ماضی میں بہت سارے قوانین بنائے گئے او راقدامات اٹھائے گئے مگر یہ نظام اب بھی برقرار ہے۔سپریم کورٹ نے کم عمر لڑکیو ں کو دیو داسی کے طور پر وقف کرنے کی بددیانتی کی مذمت کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کیاہے۔