تبدیلی مذہب کی وجہ سے ہندوئوں کی آبادی میں کمی، آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری کا دعویٰ، قوانین سختی سے نافذ کرنے پر زور۔
پریاگ راج: آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے کا دعویٰ ہے کہ تبدیلی مذہب اور سرحدی علاقوں سے نقل مکانی (دراندازی) آبادی میں عدم توازن کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے تبدیلی مذہب کے خلاف قوانین کو سختی سے نافذ کرنے پر زور دیا۔ ہوسابلے نے یہ بات بدھ کو پریاگ راج میں آر ایس ایس کی اکھل بھارتیہ کاریہ کاری منڈل کے چار روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جن ستا کے مطابق ہوسابلے نے بتایا کہ اکھل بھارتییہ کاریہ کاری منڈل کی میٹنگ میں بھی ملک میں تبدیلیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اجلاس میں آبادی کی پالیسی بنانے اور اسے سب پر یکساں طور پر لاگو کرنے پر زور دیا گیا۔ آر ایس ایس کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے ملک میں کئی مقامات پر ہندوؤں کی آبادی میں کمی آئی ہے اور اس کے نتائج بھی دیکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں سے دراندازی کی وجہ سے آبادی میں عدم توازن سے سماجی اور معاشی تناؤ پیدا ہوا ہے۔ ہوسابلے نے دعویٰ کیا کہ آبادی کا عدم توازن ماضی میں ہندوستان سمیت کئی ممالک کی تقسیم کا باعث بنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایک ‘نوجوان ملک’ کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے آبادی کا توازن ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ آریہ سماج اور دھرم جاگرن وبھاگ جیسی تنظیموں کی مدد کریں جو تبدیلی مذہب روکنے کے لیے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ‘گھر واپسی’ کا ماحول سازگار ہوا ہے۔ آر ایس ایس لیڈر نے کہا کہ تبدیلی کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔