بلقیس بانو کے مجرموں کو معافی دینے کے خلاف عرضی، خواتین تنظیم کی درخواست پر عدالت عظمیٰ سماعت کے لیے تیار۔
نئی دہلی: بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملہ میں قصوروار 11 افراد کی رِہائی کے خلاف داخل عرضی پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ تیار ہو گیا ہے۔ یہ خبر بلقیس بانو کے لیے راحت بھری ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے سال 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور ان کے کنبہ کے کئی اراکین کے قتل معاملے میں قصوروار افراد کو معافی دینے کے خلاف ایک خواتین تنظیم کے ذریعہ نئے سرے سے داخل عرضی پر سماعت کے لیے جمعہ کو رضامندی ظاہر کی۔ جسٹس اجئے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے نئی عرضی کو اصل معاملے سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر اصل عرضی کے ساتھ سماعت کرے گی۔عدالت عظمیٰ نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا جس میں بلقیس بانو معاملے کے قصورواروں کی سزا معاف کرنے کے فیصلے کو چیلنج پیش کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت نے 18 اکتوبر کو کہا تھا کہ معافی کو چیلنج پیش کرنے کے لیے داخل عرضیوں پر گجرات حکومت کا جواب 'بہت طویل ہے جس میں فیصلوں کی سیریز کو شامل کیا گیا ہے لیکن مدلل بیان ندارد ہے۔ عدالت نے عرضی دہندگان کو گجرات حکومت کے حلف نامے پر جواب دینے کے لیے وقت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر 29 نومبر کو سماعت کرے گی۔واضح رہے کہ بلقیس بانو کے ساتھ جب اجتماعی عصمت دری کا معاملہ پیش آیا تھا تب ان کی عمر 21 سال تھی اور وہ پانچ ماہ کی حاملہ بھی تھیں۔ بلقیس بانو کے ساتھ اس شرمناک جرم کا واقعہ اس وقت انجام دیا گیا تھا جب گودھرا میں کارسیوکوں سے بھری ٹرین کو جلانے کے بعد گجرات میں فسادات کا دور شروع ہو گیا تھا۔ فسادات کے دوران بلقیس بانو کے کنبہ کے کئی اراکین کا قتل بھی کر دیا گیا تھا جس میں بلقیس کی ایک 3 سالہ بیٹی بھی شامل تھی۔ اس معاملے میں 11 افراد کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا جنھیں گجرات حکومت کی 'معافی پالیسی کے تحت گزشتہ 15 اگست کو گودھرا سَب-جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔ قصورواروں نے 15 سال کی سزا پوری کر لی ہے اور گجرات حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے اچھے سلوک کو دیکھتے ہوئے انھیں رِہا کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔