یوپی: جامعہ مصطفی قادریہ کے طلبہ سمیت فساد کے الزام میں گرفتار شدگان کا مقدمہ لڑے گی جمعیۃ: مولانا محمود مدنی، جمعیۃعلماء کے وفد نے کیا سلطان پورکا دورہ، متاثرین سے ملاقات کی۔
نئی دہلی: سلطان پوریوپی کے ابراہیم پور قصبہ میں درگامورتی وسرجن کے موقع پر ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاری عمل میںا ٓرہی ہے: ا ب تک جن ۳۲ لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے ان میں جامعہ مصطفی قادریہ موضع ابراہیم پور ولی پور کے ۱۷معصوم طلبہ شامل ہیں ، جب کہ دو مدرس اور ایک ممبر بھی گرفتار ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ مقامی خواتین کی طرف سے مظلومیت پر مبنی ویڈیو پر بھی سامنے آئی ہے۔
ان حالات کے مدنظر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو گزشتہ ہفتہ خط کر فوری اقدام کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اس کے بعد مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند کی قیادت میں جمعیۃ کے ایک وفد نے سلطان پور کا دورہ کیا اور وہاں ابراہیم پور کے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر منیجر جامعہ مصطفی قادریہ اور باشندگان ولی پور نے صدر جمعیۃ علماء ہند کے نام ایک مکتوب بھی سونپا جس میں انصاف کے لیے ان کی طرف سے مقدمہ لڑنے کی گزارش کی گئی ہے ۔آج نئی دہلی میں مولانا محمود اسعد مدنی نے اس کے مدنظر علان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ہر ممکن قانونی ا مداد فراہم کی جائے گی ، مدرسے کے زیر تعلیم نوعمر طلبہ کی گرفتاری پر ہمیں افسوس ہے ، نیز یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ اب تک صرف یک طرفہ گرفتاری ہوئی ہے ۔ اہلیان ابراہیم پور کی گزارش پر ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو بھی بے قصور نذر زنداں ہوا ہے، ان کی قانونی طور سے مدد کی جائے گی ( ان شاء اللہ )
دریں اثنا ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے دورہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا ذاکر اشرفی استاذ جامعہ مصطفی قادریہ ، ابراہیم پور کے رہنے والے جناب شاہد بھائی، امجد بھائی وغیرہ سے جمعیۃ کے وفد نے سلطان پور شہر میں ملاقات کی۔ ان مقامی ذمہ داروں نے بتایا کہ مورتی وسرجن کے دن مغرب کی نماز کے وقت دوسرے مذہب کے لوگوں نے جلوس کے ساتھ مسجد کے سامنے مورتی لاکر رکھ دی اور پھر گیٹ کے سامنے بیٹھ گئے اور منع کرنے پر گالی گلوج کرنے لگے، آدھا ایک گھنٹہ تک ان کو سمجھانے کی کوشش کی گئی، لیکن انھوںنے ہماری کوئی بات نہیں سنی ، پھر معاملہ فرقہ وارانہ تشدد میں بدل گیا۔ اس درمیان تھانہ ایس او بلدی رائے کی غیظ اور دھمکی سے بھری تقریر سے متاثر ہو کر فسادیوں نے راتوں رات کچھ دکانوں وگھروں کو لوٹ لیا اور ان میں آگ لگادی ، 3/ موٹر سائیکلیں، ایک ٹریکٹر اور ٹاٹا سومو گاڑی جلادی گئی ، تھانہ ایس او (امریندر سنگھ ) بلدی رائے نے ان ثبوتوں کو مٹانے کیلئے رات ہی میں جے سی بی بلاکر صفائی کرادی۔ اس درمیان پولیس انتظامیہ نے86 افراد کے خلاف نامزد اور150 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ۔
جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے مقامی ذمہ داروں سے امان و امان بنائے رکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ انصاف دلانے کے سلسلے میں جو ممکن ہو گا ، کیا جائے گا۔اس موقع پر وفد نے بلدی رائے کے تھانہ انچار ج او رایس او کو بلاتاخیر معطل کرنے کا مطالبہ کیا کہ اس کے بغیر یہاں قانون ، امن و انصاف کا قیام بہت مشکل ہے ۔
جمعیۃعلماء ہند کے وفد میں مولانا مفتی جمیل الرحمن قاسمی جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اترپردیش، مولانا محمد فاروق قاسمی ناظم جمعیۃ علماء ضلع پرتاب گڑھ، مولانا مفتی محمد مرشد قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع کوشامبی، سفیان بھائی پرتابگڑھ اور جمعیۃ علماء سلطان پورکے ذمہ داران مولانا مطہرالسلام قاسمی صدر جمعیۃ علماء سلطانپور ، مولانا عبداللہ قاسمی ناظم جمعیۃ علماء سلطان پور ،مولانا عثمان قاسمی ، مولانا مقبول قاسمی ، مولانا محمد سعید قاسمی وغیرہ شامل تھے۔

سمیر چودھری۔