یو اے پی اے کے تحت ۹ سال سے جیل میں بند، ملزم کی ضمانت عرضی پر ۷۵ دنوں کے اندر فیصلہ کرنے کی عدالت کو ہدایت۔
نئی دہلی: (دی وائر اردو) دہلی ہائی کورٹ نے بدھ ۱۹؍اکتوبر کو ایک عدالت کو یو اے پی اے کیس میں نو سال سے زیادہ جیل میں گزارچکے شخص کی ضمانت کی درخواست پر 75 دنوں کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، جسٹس جسمیت سنگھ کی سنگل جج کی بنچ منظر امام کی جانب سے دائر ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جنہیں 2013 میں انڈین مجاہدین سے متعلق ایک مبینہ معاملے میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گرفتار کیا تھا۔امام پر یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے ساتھ ساتھ آئی پی سی کی دفعہ 121اے (جنگ چھیڑنے کی سازش/حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش یا اکسانا) اور 123 (جنگ چھیڑنے کی سازش کو چھپانا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔امام کی طرف سے دلیل دیتے ہوئے کارتک مروکٹلا نے کہا کہ وہ ایک اکتوبر 2013 سے حراست میں ہیں اور 9 سال سے زیادہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امام کے خلاف ابھی تک الزامات تک طے نہیں ہوئے ہیں، اور 369 گواہ ہیں۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر شلپا سنگھ نے این آئی اے کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ امام کے پاس اس معاملے پر خصوصی عدالت سے رجوع کرنے کا ایک راستہ ہے، جس کا انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اس پر مروکٹلا نے مساوی بنیادوں پر خصوصی عدالت (سیشن کورٹ) سے رجوع کرنے کی آزادی کے ساتھ ضمانت کی درخواست واپس لینے کی مانگ کی۔تاہم، مروکٹلا نے کہا کہ چونکہ امام پہلے ہی نو سال کی قیدسے گزر چکے ہیں اور ابھی الزام تک طے نہیں کیے گئے ہیں، اس لیے درخواست کو نمٹانے کے لیے وقت کی ایک حد مقرر کی جانی چاہیے۔امام کو خصوصی عدالت سے رجوع کرنے کی آزادی دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ ان کی طرف سے دائر کی گئی درخواست مناسب معلوم ہوتی ہے۔ہائی کورٹ نے کہا، خصوصی عدالت اس فیصلے کی تاریخ سے 75 دنوں کے اندر درخواست گزار کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گی اور اسے نمٹا دے گی۔امام نے مزید ایک عرضی دائر کی ہے، جس میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے کہ این آئی اے ایکٹ کے سیکشن 11 کے تحت خصوصی عدالتیں خصوصی طور پر مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے زیر تفتیش مقدمات سے نمٹیں۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں صرف دو عدالتیں ہیں، جو این آئی اے ایکٹ کے تحت ٹرائل کر سکتی ہیں، جس کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔امام کی درخواست کے مطابق فروری 2014 میں ان کے مقدمے میں چارج شیٹ دائر کی گئی تھی، لیکن عدالت کی جانب سے ابھی تک الزامات طے نہیں کیے گئے۔ کیس میں کل 24 افراد ملزم ہیں۔این آئی اے عدالتوں کے سامنے کچھ معاملات میں ملزمین 2013 سے حراست میں ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کو 2020 سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔فی الحال، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، نئی دہلی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-03 (اے ایس جے–03)، پٹیالہ ہاؤس کورٹ این آئی اے کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔