غازی آباد اجتماعی عصمت دری معاملہ جھوٹ پرمبنی، وشو ہندو پریشد نے جسے ’اسلامک‘ جرم بتایاتھا وہ زمین قبضہ کرنے کی چال تھی: یوپی پولیس۔
نئی دہلی: (دی وائر اردو) 19 اکتوبر 2022 کو اتر پردیش کے غازی آباد شہر میں دہلی کی ایک 37 سالہ خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کی خبریں سرخیوں میں تھیں۔خاتون مبینہ طور پر پانچ دنوں سے لاپتہ تھیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا تھاکہ حملہ آوروں نے بار بار اس کے ساتھ ریپ کیا اور لوہے کی راڈ اس کی شرمگاہ میں ڈال دی تھی۔ بعد ازاں حملہ آور خاتون کو گلی میں پھینک گئے تھے۔ خاتون کو دہلی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا اور پولیس نے مجرموں کو پکڑنے کے لیے مہم شروع کی تھی۔دہلی ویمن کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے اس خبر کو ٹوئٹ کیا تھا اور اس کا موازنہ 2012 کے نربھیا کیس سے کیا تھا۔پولیس نے بعد میں پانچ افراد کو گرفتار کیا، تاہم ابتدائی طور پر ان کے ناموں کا میڈیا میں اعلان نہیں کیا گیا۔ حالاں کہ ،اس کے بعد کئی ٹوئٹر ہینڈل نے پانچوں ملزمین کے نام سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیے۔فوراً ہی معاملے کو میڈیا کے ایک گروپ اور ہندوتواوادیوں نے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا، کیونکہ اس جرم میں ملوث پانچوں ملزمین مسلمان تھے۔آر ایس ایس سے وابستہ وشو ہندو پریشد کے قومی ترجمان نے کہا کہ ملزم ایک ‘اسلامی سیکس گینگ’ کا حصہ تھے۔ دائیں بازو کے کارکنوں نے اس واقعے کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاج کیا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے۔تاہم، جمعرات (20 اکتوبر) کو غازی آباد پولیس نے اعلان کیا کہ اس کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ خاتون نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملزمین میں سے ایک کے ساتھ جائیداد کا تنازعہ طے کرنے کے لیے یہ جھوٹی کہانی تیار کی تھی۔میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منی راج گوبو نے بتایا کہ خاتون کے بیان تضادات سے پُر تھے۔جب ایک خاتون پولیس اہلکار کو غازی آباد کے ہسپتال بھیجا گیا اور وہ خاتون ڈاکٹر کی موجودگی میں متاثرہ خاتون سے ملی تو مبینہ طور پر متاثرہ نے کافی سمجھانے کے باوجود طبی معائنہ کرانے سے انکار کر دیا۔ متاثرہ کو میرٹھ میڈیکل کالج ریفر کیا گیا تھا، لیکن اس نے دہلی کے جی ٹی بی اسپتال میں داخل ہونے کا انتخاب کیا۔غازی آباد کی پولیس سپرنٹنڈنٹ (کرائم) ڈاکٹر دکشا شرما، جو خود میڈیکل سائنس کی طالبہ ہیں، نے دہلی کے جی ٹی بی ہسپتال کے تمام متعلقہ حکام سے ملاقات کی اور معلومات اکٹھی کیں۔ تحقیقات کی سربراہی سیکنڈ اربن سرکل آفیسر آلوک دوبے کررہی ہیں اور اس کی نگرانی ڈاکٹر شرما کررہی ہیں۔پولیس نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خاتون کے دوست آزاد تحسین – جس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے – نے اس کے لاپتہ ہونے کے بعد اپنا موبائل بند کر دیا۔ اسی دوران آزاد کے نیٹ ورک کی لوکیشن اس جگہ کے قریب ملی جہاں سے خاتون ملی تھیں۔آزاد کے فون سے اس بات کے ثبوت بھی ملے ہیں کہ اس ریپ کی خبر کو بڑھا چڑھا کرپھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ پولیس نے کہا کہ پے ٹی ایم کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کے لیے ادائیگی کے ثبوت بھی ہیں۔ وہیں آزاد کے خلاف آدھار جعل سازی سے متعلق ایک الگ معاملہ بھی درج ہے۔پولیس کے مطابق آزاد نے اپنے دوست گورو شرن اور اقبال افضل کے ساتھ مل کر پانچوں ملزمین کو گینگ ریپ کیس میں پھنساکر زمینی تنازعہ کو سلجھانے کی سازش رچی تھی۔ اس سے قبل بھی تینوں نے ایک فوجداری مقدمے میں اسی طرح کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام رہے۔ چنانچہ انہوں نے مبینہ طور پر جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے یہ سازش رچی۔تینوں ملزم اب حراست میں ہیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منی راج نے کہا کہ ان کا قبول نامہ ‘سائنسی ثبوت’ کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس معاملے کو عدالتی سماعت کے لیے آگے بڑھایا جائے گا۔