بی ایس ایف جوان کی گلزاراعظمی سے ملاقات، جمعیۃ علماء کی کوششوں سے نہ صرف ضمانت ملی بلکہ ملازمت پر بھی بحال کیا گیا۔
ممبئی: ہندوستانی فوج کے ایک اہم شعبہ بارڈر سیکوریٹی فورسیز BSFمیں اپنی خدمات انجام دینے والے جس کا تعلق مہاراشٹر کے لاتور ضلع سے ہے فوجی جوان شیخ ریاض الدین نے آج دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر واقع امام باڑہ ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے ملاقات کرکے اسے مشکل وقت میں قانونی امداد دینے کے لیئے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ شال اور گلدستہ سے ان کا استقبال بھی کیا۔ریاض الدین شیخ کے ہمراہ اس کے اہل خانہ، حافظ ذاکر صدیقی ( صدر جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) موجود تھے، شیخ ریاض الدین نے کہا کہ نومبر 2018 میں پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور اس کے بعد اسے ملازمت سے فوراًمعطل کردیا گیا تھا لیکن جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے پہلے اسے سپریم کورٹ آف انڈیا سے ضمانت ملی لیکن ضمانت میں یہ شرط تھی کہ جیل سے رہائی کے بعد وہ پنچاب ریاست سے باہر نہیں جاسکتا ہے، چھ مہینہ پنجاب ریاست میں رہنے کے بعد جمعیۃ علماء کی کوششوں سے سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامہ میں تبدیلی کی اور اسے پنجاب ریاست سے باہر جانے کی اجازت دے دی جس کے سبب وہ چار سالوں کے طویل عرصہ کے بعد اپنے آبائی گاؤں پہنچا اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ریاض الدین کے ہمراہ جناب علیم پٹیل صاحب ( خازن جمعیۃ علماء علاقہ مراٹھواڑہ)جناب سید ہارون صاحب ،جناب سید شاکر صاحب،جناب سید اسماعیل صاحب ( ایکس صوبے دار ہیں اور شیخ ریاض احمد صاحب کے خسر ہیں ) جناب شیخ شفیق صاحب و دیگر موجود تھے ۔ اس موقع پر ریاض الدین نے گلزار اعظمی سے مخاطب ہوئے کہا کہ آپ کی کوششوں سے مجھے ملازمت پر بحال کردیا گیا ہے حالانکہ ابھی اس کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ نے مجھے ڈیوٹی پر آنے کو کہا ہے لہذا وہ پنجاب واپس جارہا ہے۔ریاض الدین نے مزید کہا کہ اس کی خواہش تھی کہ وہ ملازمت پر دوبارہ رجوع ہونے سے پہلے دفتر جمعیۃ علماء پہنچ کر اسے قانونی امدا د دیئے جانے کا شکریہ ادا کرے لہذا آج وہ ممبئی میں موجود ہے۔دوران ملاقات جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ انہوں نے مقدمہ کی پیروی کرکے کوئی احسان نہیں کیا، یہ میرا فرض تھا اور میں نے اسے نبھانے کی کوشش کی۔ قانونی امدا د کمیٹی کی جو ذمہ داری صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے جو مجھے دی ہے میں اسے پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اگر عوام کی دعائیں میرے ساتھ رہی اور اللہ رب العزت نے قوت و صحت بخشی تو آخری دم تک ایسے ہی مظلوموں کی خدمت کرتے رہونگا۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو ضمانت پر رہائی ملی ہے لیکن جب مقدمہ چلے گا تو انشاء اللہ ریاض الدین باعزت بری ہوگا کیونکہ ریاض الدین ایک ایماندار فوجی ہے اور اس پر پاکستان کے لیئے جاسوسی کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے اس کی ضمانت پر رہائی کی بہت کوشش کی لیکن انہیں کامیانی نہیں ملی جس کے بعد صدر جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ حافظ محمد ذاکر صدیقی کے توسط سے ملزم کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی سے رابطہ قائم کرکے ان سے قانونی امداد طلب کی تھی اور کہا تھا کہ ریاض الدین بے قصور ہے اور اس نے پاکستان کے لیئے کوئی جاسوسی نہیں کی ہے اور وہ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ایک ایماندار فوجی ہے۔ قانونی امداد کی درخواست کو قبول کرنے کے بعد جمعیۃ علماء نے ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ملزم کی ضمانت پررہائی کے لیئے کوشش کی اور جمعیۃ علماء کی کوششوں کے نتیجے میں پہلے سپریم کورٹ سے ضمانت ملی پھر ضمانت کی شرائط میں تبد یلی کی گئی اور اب اسے ملازمت پر بحال کیا گیا۔