دیوبند میں رنجش کے سبب مارپیٹ میں پردھان کے والد کی موت، متوفی کے بیٹے کی تحریر پر آٹھ نامزد کے خلاف معاملہ درج، سات گرفتار۔
دیوبند: سمیر چودھری۔
 آپسی رنجش کے چلتے دو فریقین میں تنازع کے بعد ہوئی مارپیٹ میں شدید طور سے زخمی موجودہ پردھان کے والد کی موت واقع ہوگئی جبکہ پردھان شدید طور سے زخمی ہوگیا ۔اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے زخمیوں کو سرکاری اسپتال میں داخل کرایا جبکہ لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔
اس واقعہ میں دوسرے فریق کے بھی کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔پولیس نے قتل کے الزام میں ملز م فریق کے سات افراد کو گرفتار کیا ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق گاؤں جٹولا دامودر پور میں پردھان مونو کی گاؤں کے ہی ایک فریق کے ساتھ پرانی رنجش چلی آرہی ہے اسی رنجش کے سبب گاؤں کے شمشان میں چھتری تعمیر کئے جانے کا کام پردھان مونو کی جانب سے شروع کیا گیا ۔الزام ہے کہ گذشتہ کل دوسرے فریق کے لوگوں نے تعمیری کام کے لئے منگائی گئے سامان کو شمشان گھاٹ سے اٹھاکر لے گئے جس کے بعد پردھان مونو نے اس کی شکایت پولیس سے کی اسی رنجش کے سبب دیر رات دوسرے فریق کے مونو ولد برج پال چنٹو، پون، سونوعرف گورو، آلوک، اجے اور پدم سنگھ واجے نے لاٹھی ڈنڈوں اور دھاردار ہتھیاروں سے لیث ہوکر پردھان مونوکے گھر پر حملہ کردیا۔
اس حملہ میں پردھان مونو اور اس کے 60سالہ والد سیوا رام شدید طور سے زخمی ہوگئے ۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے دیر رات ہی پردھان اور اس کے والد کو علاج کے لئے دیوبند کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا جہاں ڈاکٹروں نے سیوا رام کو مردہ قرار دیدیااور مونو کی تشویش ناک حالت دیکھتے ہوئے اسے ہائر سینٹر ریفر کردیا ۔پولیس نے لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا اس دوران پولیس نے مقتول کے لڑکے روہت کمار کی شکایت پر مذکورہ سبھی آٹھ افراد کے خلاف قتل مار پیٹ سمیت ایس سی ؍ایس ٹی کی دفعات میں مقدمہ قائم کرلیا۔
اس سلسلہ میں تھانہ انچارج دیوبند پیوش دیکشت نے بتایا کہ مخبر کی اطلاع پر ملزمان مونو پتر برج پال پون اور چنٹو عرف وجت سونو عر ف گورواور اس کے بھائی پون اجے ،آلوک اور پدم سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ دوسری جانب سابق اسمبلی رکن ششی بالا پنڈیر آج زخمی پردھان مونو سے ملاقات کرنے کے لئے سہارنپور میں واقع پرائیویٹ اسپتال پہنچی وہیں انہو ںنے گاؤں پہنچ کر پردھان کے والد سیوا رام کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے بعد اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں تعزیت پیش کی۔ان کے ساتھ چودھری اوم پال ،جے پرکاش پال،جہانگیر اور سمت کامبوج وغیرہ موجود رہے۔