امتحان گاہ میں لباس اتارنے پر مجبور کی جانے والی طالبہ کی موت۔
رانچی: اسکول کے ٹرمنل امتحانات کے دوران نقل نویسی کے شبہ میں لباس اتارنے پر مجبور کئے جانے کے بعد اقدام خودسوزی کرنے والی طالبہ ریتو مکھی جمعرات کی شب جانبر نہ ہوسکی۔
جمشیدپور کے شردمونی گرلز اسکول کی نویں جماعت کی طالبہ نے 14 اکتوبر کو گھر واپس ہونے کے بعد خود پر کیروسین چھڑک کر آگ لگالی تھی۔ اس کا جمشیدپور کے ٹاٹا مین ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا تھا۔طالبہ کی موت پر مقامی عوام میں برہمی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے کشیدگی کو محسوس کرتے ہوئے ہاسپٹل سے لیکر شمشان گھاٹ تک سیکوریٹی فورسس کو تعینات کیا تھا۔ آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔جمشید پور کے ڈپٹی کمشنر وجئے جادھو طالبہ کی موت کی اطلاع ملنے پر ہاسپٹل پہنچے۔ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور کل رات ہی متوفی کا پوسٹ مارٹم کردیا گیا۔ چیف منسٹر ہیمنت سورین نے اس واقعہ کا نوٹ لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ لڑکی کے خاندان کو ہرممکن مدد فراہم کریں۔پولیس نے ٹیچر چندر داس کو گرفتار کرلیا ہے جس نے نقل نویسی کے لئے چھپائی گئی چٹھیاں برآمد کرنے لڑکی کو لباس اتارنے پر مجبور کیا تھا۔اسکول پرنسپل گیتارانی مہاتو کو معطل کردیاگیا ہے۔ متوفی کے بیان کے مطابق ٹرمنل امتحان کے دوران ٹیچر نے اس پر نقل نویسی کا الزام عائد کیا تھا اور سب کے سامنے تھپڑرسید کیا تھا۔اس کے احتجاج کے باوجود ٹیچر نے اسے سب کے سامنے لباس اتارنے پر مجبور کرتے ہوئے اس کی تلاشی لی تھی۔ اس کے پاس سے کوئی چٹھیاں برآمد نہیں ہوئی تھیں لیکن اسے پرنسپل کے دفتر لیجایا گیا تھا۔ اس واقعہ کے سبب لڑکی نے اپنی سخت توہین اور پشیمانی محسوس کی تھی۔ اس نے اپنی بہنوں کو پڑوسی کے گھر بھیج دیا تھا اور شام میں گھرپہنچنے کے بعد خود کو آگ لگالی تھی۔