تاج محل کے ۲۲ بند کمروں کو کھولنے کی درخواست سپریم کورٹ سے خارج۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج (21 اکتوبر) تاج محل کے 22 بند کمروں کو کھولنے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ اس سے پہلے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اس عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ عرضی گزار کو جا کر تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔آج سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے درست فیصلہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ درخواست مفاد عامہ کی بجائے محض تشہیر کے لیے دائر کی گئی ہے۔دراصل الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ سے عرضی خارج ہونے کے بعد درخواست گزار کے وکیل رودر وکرم سنگھ نے کہا کہ اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اسے مسترد کر دیا ہے۔الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کمرہ کھولنے کی مانگ کے لیے کسی تاریخی تحقیق کی ضرورت ہے، ہم رٹ پٹیشن پر غور کرنے کے قابل نہیں، یہ عرضی خارج کردی جاتی ہے۔ جسٹس ایم آر شاہ اور ایم ایم سندریش کی بنچ نے اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’ مفاد عامہ کی عرضی‘‘ قرار دیا۔بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا جس نے مارچ 2022 میں درخواست گزار کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، درخواست گزار نے تاج محل کی اصل تاریخ کا مطالعہ کرنے اور تنازعہ کو ختم کرنے اور واضح کرنے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔آپ کو بتا دیں کہ دائر درخواست میں تاج محل میں موجود 22 کمروں کو کھولنے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ان کے اندر کسی دیوتا کا بت یا نوشتہ ہے یا نہیں۔تاج محل کے یہ 22 کمرے کئی دہائیوں سے بند پڑے ہیں۔ مؤرخین کے مطابق کہا جاتا ہے کہ مرکزی مقبرے اور چمیلی فرش کے نیچے 22 کمرے ہیں جو تاحال بند ہیں۔