۲۱؍ویں صدی میں ہم مذہب کے نام پر کہاں پہنچ گئے؟، نفرت انگیز تقاریر پر سپریم کورٹ کا تبصرہ، فوری کارروائی کا حکم۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذہب کے نام پر کہاں پہنچ گئے ہیں۔ اس طرح کے بیانات (نفرت انگیز تقریر) پریشان کن ہیں، خاص طور پر اس ملک کے لیے جو جمہوری اور مذہب سے پاک ہے۔عدالت عظمیٰ نے سبھی افسران کو نفرت انگیز تقاریر کرنے والے افراد کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایات دی۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔ وہیں دہلی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے پولیس سربراہوں سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ نفرت انگیز تقاریر معاملات میں اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔دراصل سپریم کورٹ ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں بھارت میں مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے اور دہشت زدہ کرنے کے مبینہ بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مذہب سے بالاتر ہوکر کارروائی کی جائے۔ ملک میں نفرت کی فضا ہے۔ ایسے بیانات پریشان کن ہیں۔ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے کہا کہ 21ویں صدی میں کیا ہو رہا ہے؟ مذہب کے نام پر ہم کہاں پہنچ گئے؟۔ بھارت کا آئین سائنسی مزاج کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے۔