سپریم کورٹ نے عصمت دری کی تحقیقات میں ٹوفنگر ٹیسٹ پر لگائی پابندی۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نےعصمت دری کی تفتیش میں ٹو فنگر ٹیسٹ کرانے پر پابندی لگا دی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ جانچ مردانہ نظریہ پر مبنی ہے کہ جنسی طور پر ایکٹیو عورت کی عصمت دری نہیں ہو سکتی۔بنچ نے کہا کہ عدالت کی جانب سے بار بار ٹو فنگر ٹیسٹ پر تنقید کے باوجود یہ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیسٹ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے متاثرہ کو دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس مذموم سوچ میں کوئی صداقت نہیں کہ جنسی طور پرایکٹیو عورت کی عصمت دری نہیں ہوسکتی۔سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عصمت دری کا شکار ہونے والی کسی بھی خاتون کاٹو فنگر ٹیسٹ نہ کروایا جائے۔ اس کے لیے جاری کردہ رہنما خطوط کو تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں سرکولیٹ کیا جائے۔ بنچ نے ہدایت کی کہ میڈیکل کالجز میں بھی اس حوالے سے تبدیلیاں کی جائیں اور ریپ کیس کی تحقیقات کے لیے ٹوفنگر ٹیسٹ نہ کیا جائے۔