کانپور۔ جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے زیر اہتمام رجبی گراؤنڈپریڈ میں عظیم الشان تاریخ ساز تحفظ ختم نبوت و تحفظ حدیث کانفرنس دار العلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی کی زیر صدارت و جمعیۃعلماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی نگرانی ونظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم، جمعیۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری، رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند،مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی کے شیخ الحدیث، مولانا پیر ذو الفقار احمد نقشبندی کے خلیفہ سمیت ملک کے جید علماء و اکابرین اور ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس شریک ہوئے۔
دار العلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی نے جم غفیر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت و تحفظ حدیث دونوں ہی موضوع ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں، دونوں کا ہی تعلق حضرت محمدﷺ کی حیثیت کی تعین، آپؐ کا مقام و رتبہ ہمارے مذہب، دین و عقیدے کے اندر کیا ہے، سے ہے؟جس طرح نبی کریم ﷺ کی نبوت کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے،اسی طرح جو حیثیت حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشادات، آپؐ کے اعمال اور آپؐ کی تقریر ات کا ہے،جسے حدیث کہتے ہیں۔ علماء کے ذریعہ حدیث کی جب تشریح کی جاتی ہے اس میں تین چیزوں کو حدیث کہا جاتا ہے،پہلی جو باتیں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمائیں وہ حدیثیں قولی کہلاتی ہیں،جو عمل کیا ہے اسے حدیث فعلی اور حدیث عملی کہتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے علم میں آپ ؐ کے زمانے میں کوئی عمل کیا گیا اور آپؐ کو اس کا علم ہوا اور آپؐنے خاموشی اختیار کی، اس پر نکیر نہیں فرمائی وہ بھی حدیث کہلاتی ہے۔ یہ حیثیت اور رتبہ صرف انبیاء کرام ؑ کا ہے کہ اگر ان کے سامنے کوئی عمل ہو اور وہ خاموشی اختیار کر لیں تو وہ اس کے صحیح اور حجت ہونے کی دلیل ہے۔ جس طرح آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اسی طرح کسی کے ارشادات و اعمال اور خاموشی کو اب حجت نہیں قرار دیا جائے گا۔ یہ آخری مقام و مرتبہ اور حیثیت تھی جوحضرت محمدﷺ کو حاصل تھی۔ آپؐ کی احادیث کو مجروح اور ناقابل استدلال قرار دینا آپؐ کی رسالت و نبوت پر حملہ ہے۔ اسی لئے ان دونوں عنوانات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اب قیامت تک کہیں کوئی کسی طرح کا نیا نبی نہیں آئے گا، اسی طرح ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جو حیثیت حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشادات اور آپؐ کی احادیث طیبہ کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے کے ارشاد کو نہیں، ہم جہاں ختم نبوت ؐ کی حفاظت کے ذمہ دارہیں، وہیں احادیث کی حیثیت کی حفاظت بھی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔ یہ دین کا ایک بنیادی عنصر ہے اور احکام شرعیہ کے سکون و استبداد کیلئے دوسرا مأخذ ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر کتاب اللہ پر ہمارا ایمان ہے کہ اس کا ایک نقطہ،شوشہ اور ایک حرف بھی ناقابل تنسیخ ہے یعنی اس میں کوئی رد وبدل اورتبدیلی نہیں کی جا سکتی، اس کی حیثیت کو گھٹایا نہیں جا سکتا ہے اسی طرح شریعت کے دوسرے مأخد یعنی نبی کریم ﷺکی احادیث، آپؐ کے ارشادات جسے سنت رسول اللہؐ کہتے ہیں اس کی بھی اسی طرح حفاظت ضروری ہے۔ نہ اس کے اندر کوئی ترمیم ہو سکتی ہے نہ اس کے مقام و مرتبہ اور حیثیت کے اندر کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے گھٹایا جا سکتا ہے۔ آج بھی کچھ لوگ احادیث کی حجیت کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے نزدیک حضرت نبیﷺکی حیثیت صرف ایک میسنجر کی یعنی اللہ کا پیغام پہنچا دینے والے کی ہے، ان کے مطابق آپؐ کے ارشادات شریعت و سنت، عمل شریعت نہیں ہے۔ لیکن یہ عقیدہ اور خیال قرآن پاک کی اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قرآن نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ تمہیں جو حکم دیں اسے اختیار کر لواور جس چیز سے منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ“۔اب اللہ کا جب یہ حکم آ گیا تو رسول اللہﷺ کا دیا گیا حکم اللہ کا حکم ہے،او ر جن چیزوں سے منع کیا وہ اللہ کی منع کی ہوئیں ہیں۔ اس لئے جو رسول اللہﷺ کی احادیث کو وہ حیثیت نہیں دیتے جو حیثیت اللہ نے دی ہے وہ آپؐ کی رسالت پر دھبہ لگانے والے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آپؐ نے کچھ احکام زبانی دئے اور فرمایا کہ تم لوگ اس طرح نماز ادا کرو جس طرح مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھو،نبی ؐ نے حج کر کے دکھایا،معلوم ہوا کہ حضورؐکا عمل بھی حجت ہے اور قول بھی حجت ہے۔ جس طرح ختم نبو ت کی حفاظت اور اس عقیدہ کا تحفظ انتہائی اہم مسئلہ اور مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اسی طریقے سے حدیث پاک کی حجیت کا انکار کرنے والوں کا مقابلہ اور ان کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچانایہ بھی انتہائی اہم جز ہے۔
دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم مفتی محمد راشد اعظمی نے فرمایا کہ انبیاء کرام ؑ کے علم میں اختلاف نہیں ہوتا ہے، جھوٹے لوگوں کی ہر بات میں تضاد اوراختلاف ہوتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ ابھی آسمان میں ہیں، قیامت کے قریب تشریف لائیں گے۔ حدیث کا انکار کرنے والے انکار ہی اسی لئے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ملحدانہ کوششوں میں بالکل آزاد رہیں، کسی عبادت، عمل کی پابندی نہیں کرنی پڑے۔ دین کے معاملوں میں صرف لوگوں پر تنقیدیں کریں اس لئے کہ ساری ذمہ داریاں لوگوں پر ڈالنے والی احادیث ہی ہیں۔ قرآن کریم کو سمجھنا اور سمجھانا بھی حدیث کے ذریعہ سے ہی ہوگا۔ جب تک حدیث نہیں سمجھیں گے تب تک قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کا انکار کرنے والے قرآن کی منمانی تفسیر کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں کہا ہے کہ ’اے نبی ہم نے آپؐ پر قرآن اتارا ہے تاکہ آپؐ لوگوں کو قرآن سمجھائیں‘ اس سے پتہ چلا کہ قرآن پاک سمجھانے کی ذمہ داری اللہ نے اپنی طرف سے رسول اللہﷺ کے سر ڈالی ہے۔ اگر حضو ر کی حدیثوں کو چھوڑ دیں گے توقرآن کی ایک آیت بھی نہیں سمجھ سکتے۔
دار العلوم دیوبند کے رکن شوریٰ مولانا عبد العلیم فاروقی نے اپنے بیان کی ابتداء میں کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کو مبارکباد دے کر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنت میں وہی جائے گا جو نبیؐ پر ایمان لائے اور نبیؐ کو آخری نبی مانے، اگر نبی ؐ پر ایمان لا چکا ہے اور حضرت محمدؐ ابن عبد اللہ کو آخری پیغمبر نہیں مان رہا ہے، اس بے ایمان کیلئے جنت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہے اور وہ جہنم میں جائے گا۔
مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی کے شیخ الحدیث مولانا شاہ افضال الرحمن قاسمی نے کہا کہ جس طرح ہم اپنی جسمانی صحت کیلئے معتبر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اسی طرح اگر معتبردین چاہتے ہیں، قرآن و حدیث اور شریعت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو علماء اور دین کو جاننے والوں سے پوچھیں۔ ہم حصول علم کی طرف توجہ دے کر اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لیتے رہیں۔ اللہ والوں سے اپنا تعلق رکھیں، اس کی برکت سے دھیرے دھیرے اصلاح کی شکلیں نکلیں گی اور اللہ ہماری حفاظت فرمائیں گے۔
معروف مفسر قرآن مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی نے کہا کہ نبی ؐ کو نہ مان کر انسان ایمان سے محروم ہو جاتاہے۔جس طرح دجال جیسا ہمارا دشمن آنے والا ہے، سیدنا عیسیٰ ؑ ابن مریم زندہ آسمان میں اٹھائے گئے اور دوبارہ اتارے جائیں گے،اپنے ہاتھوں سے دنیا کے سب سے بڑے ظالم کا خاتمہ کریں گے، حضورؐ نے اس کے بارے میں ہمیں کتنا تفصیل سے بتایا ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی نیا نبی آنے والا ہوتا تو یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ ایسی کوئی مبہم بات کرتے تھے کہ صحابہ ؓ سے لے کر آج تک پوری امت دھوکہ میں رہتی اور اس بات پر اجماع کرتی کہ کوئی نبیؐآنے والا نہیں ہے، کیا اللہ اور اس کے رسولؐ کو ہمارے ایمان سے دشمنی تھی؟اس بات پر امت کو اسی لئے مطمئن کیا گیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے،یہی ہمارا ایمان ہے، اس لئے یاد رکھیں کہ کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے، اسلام سے خارج ہے، اگر کوئی اس سے اس کی نبوت کی دلیل و معجزہ مانگے تو وہ بھی اسلام سے خارج ہے۔
جمعیۃ علماء وسطی اتر پردیش کے نائب صدر مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی نے کہا کہ حضورؐ کی نبوت پر اگر کوئی ڈاکہ ڈال کر کہے کہ آپؐ آخری نبی نہیں تھے بلکہ کوئی اور ہے تو یہ عمل ناقابل برداشت ہے۔
کانفرنس کے نگراں اور روح رواں، جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اپنے ولولہ انگریز افتتاحی خطاب میں کہا کہ حضورؐ کی ختم نبوت کا تذکرہ اتنا ہونا چاہئے اتنا ہونا چاہئے کہ دنیا ہمیں پاگل، دیوانہ اور مجنون سمجھنے لگے۔ مولانا نے امام المحدثین علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے حوالہ سے کہا کہ خواہ ہم کتنے ہی عالم ہوں، عابد و زاہد ہوں، خیر کے کاموں میں حصہ لیتے ہوں، کتنے ہی متقی اور پرہیزگار ہوں، اگر ہم ختم نبوتؐ کی حفاظت کا کام نہیں کرسکتے تو گلی کا کتا ہم سے بہتر ہے۔ مولانا نے کہا کہ دین کے سارے کام، ساری عبادات و معاملات سب کی اپنی حیثیت ہے، لیکن حضورؐ کی ختم نبوتؐ کو بیان کرنا اور تحفظ کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ ساتھ ہی مولانا نے مجمع سے ہاتھ اٹھاکر وعدہ کروایا کہ زندگی میں جہاں کہیں رہیں گے حضورؐ کی ختم نبوتؐ سے لوگوں واقف کراتے رہیں گے۔
کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی بھی بطور مہمان موجود رہے۔
اس سے قبل کانفرنس کا آغاز قاری مجیب اللہ عرفانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ نظامت کے فرائض کانفرنس کے روح رواں مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی اور امارت شرعیہ ہند کے ناظم مفتی اسعد الدین قاسمی نے مشترکہ طور پر بحسن و خوبی انجام دئے۔ دار العلوم دیوبند کے متعلم مولوی ابودرداء معوذ اور حافظ محمد مسعود نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ جمعیۃ علماء شہر کانپور کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں اور کانفرنس کے کنوینر مفتی اظہار مکرم قاسمی نے ضلع انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تمام معاونین، شرکاء اور ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس میں آخر تک ہزاروں کی تعداد میں عوام موجود رہے۔

سمیر چودھری۔