آج مؤرخہ ۸/ربیع الثانی ۱۴۴۴ھجری مطابق 4/ نومبر 2022 جمعہ صبح دس بجے مشہورعالم دین اور روحانی شخصیت حضرت مولاناڈاکٹر مفتی عبدالغنی ازہری کشمیری دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضری ہوئی تو علیک سلیک اور تعارف ہوتے ہی حضرت نے فورا پہچان لیا اور ازراہ شفقت اپنے قریب ہی بیٹھنے کا موقعہ دیا نیزپرشش احوال کے ساتھ حسب سابق لکھنے پڑھنے کے تعلق سے استفسارکیا، بعدازاں حضرت نے موجودہ حالات کے تناظر میں دین وملت کے بہی خواہوں سے اپنے اپنے حصہ کا دینی ودعوتی کام کرنے اور تعلیم وتربیت کے نظام کو عمومی سطح پر فعال بنانے پر توجہ دلائی ، آپ نے قرآن وحدیث کے الفاظ ومعانی سے ملت کے جگرگوشوں کو واقف کرانے کے ساتھ بڑی عمر کے ناخواندہ افراد تک قرآنیات کی تبلیغ پر زور دیتے ہوۓ غیرامدادی مدارس کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت بتایا ، مزید گفتگو ذیل کی ویڈیو میں موجود ہے جو استفادہ کیلۓ یہاں پیش کی جارہی ہے ،

واضح رہے کہ حضرت مفتی عبدالغنی کشمیری اپنی حیات مستعار کی کم وبیش سو بہاریں دیکھ چکے ہیں ، آپ نے دارالعلوم دیوبند میں شیخ الادب حضرت مولانااعزازعلی امروہوی ، شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمدمدنی اور جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ محمدابراہیم بلیاوی جیسے نام ور اساتذہ سے استفادہ کیا ہے جبکہ مؤخرالذکر شخصیت سے تو آپ کو خرقۀ خلافت بھی حاصل ہے ،ویسے بعض حضرات قطب دوراں حضرت مولاناشاہ عبدالقادر راۓ پوری قدس سرہ کا بھی آپ کو مجاز بتاتے ہیں واللہ اعلم ۔
حضرت مفتی صاحب دوتین ماہ پہلے اپنے وطن کشمیر کے سفر پر تھے کہ اچانک صاحبِ فراش ہوگۓ اور علالت وضعف کا دورانیہ ایسا طویل ہوا کہ آپ کے محبین ومتعلقین میں تشویش سی پیدا ہوچلی تھی اور لوگ بڑے اہتمام سے آپ کی بہ عجلت صحت وشفا کیلۓ دعاگو تھے ، کل شام ہی عزیزی قاری عطاءالرحمان قاسمی مدرس مدنی مدسہ انبہٹہ پیر نے گھر آکر اطلاع دی کہ حضرت مفتی صاحب مگن پورہ بادشاہی باغ تشریف لے آۓ ہیں اور شنید ہے کہ طبیعت میں افاقہ ہے چلو کل ملاقات کرکے دعائیں لے لیں چنانچہ رات ہی میں مفتی محمدمنورمین پوری سے خبر کی تحقیق کرکے نظام سفر طے کردیا ، صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے تیس چالیس منٹ بعد برادرعزیز محمدگلفام راؤ مینیجر برکت رائس ملز کھجناوراپنی گاڑی کے ساتھ بندہ کے گھر پر موجود تھے ، اس طرح یہ سہ نفری قافلہ حضرت کی عیادت کیلۓ مگن پورہ پہنچا جہاں جامعہ اشرف العلوم رشیدی کے فاضل اور مدرسہ نظامیہ کے مؤقر مدرس عزیزالقدرمفتی محمدمنور مین پوری ہمارے منتظر تھے انہوں نے سب سے پہلے چاۓ واۓ سے ضیافت کی اور پھر مفتی صاحب سے ملاقات ہونے کے بعد تک ہمارے ساتھ رہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اب حضرت کی طبیعت میں بہت افاقہ ہے اور آواز میں بھی پہلے جیسا رنگ وآہنگ محسوس ہونے لگا ہے خدا تعالی آپ کو مزید صحت وشفا دے اور آپ کے فیضان کو جاری وساری رکھے آمین۔